Main Icon

باب : مسواک کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 377

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِيْ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهٗ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن شريح بن هاني قال: سألت عائشة: بأي شيء كان يبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل بيته؟ قالت: بالسواك رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے شریح ابن ہانی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لاتے تو پہلے کیا کام کیا کرتے تھے؟ فرمایا مسواک ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہ حضرت شریح مجتہدین تابعین سے ہیں،اور آپ کے والد ہانی ابن یزید صحابی ہیں،حضرت شریح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہانی سے پوچھا کہ تمہارے کتنے بچے ہیں؟عرض کیا تین۔شریح،عبداللہ اور مسلم۔فرمایا تمہاری کنیت ابو شریح ہے،آپ سیدنا علی مرتضٰی کے مخصوص ساتھی ہیں،بلکہ آپ کے قاضی رہے ہیں،جنگ جمل و صفین میں آپ کے ساتھ تھے، ۷۸ھمیں شہید کئے گئے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ مسواک وضو کے علاوہ بھی کرنی چاہیئے۔مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ مسواک کے ستر فائدے ہیں:جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے،یہ "پائیریا"سے محفوظ رکھتی ہے،گندہ دہنی دور کرتی ہے،دانتوں و معدے کو قوی کرتی ہے،آنکھوں میں روشنی دیتی ہے۔دیکھو شامی وغیرہ۔ اور افیون میں ستر برائیاں ہیں:جن میں سے ایک یہ ہے کہ ا س سے خرابیٔ خاتمہ کا اندشیہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 377