Main Icon

باب : مسواک کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 386

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَاءَنِيْ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِيْ بِالسِّوَاكِ لَقَدْ خَشِيْتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدَّمَ فِيَّ» رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما جاءني جبرائيل عليه السلام قط إلا أمرني بالسواك لقد خشيت أن أحفي مقدم في» رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام جب بھی آئے ۱؎تو مجھ سے مسواک کرنے کو کہا میں ڈرا کہ کہیں اپنے منہ کے اگلے حصہ کو چھیل ڈالوں۲؎۔(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎سنتوں کی تعلیم دینے کے لئے یعنی جو سنت بتائی مسواک ساتھ میں عرض کی،لہذا حدیث میں یہ اعتراض نہیں کہ ہر آیت قرآنی کے ساتھ بھی مسواک کا حکم آیا۔خیال رہے کہ حکم دینے والا اللہ تعالٰی ہے۔جبرئیل امین پہنچانے والے ہیں یہاں حکم کی نسبت سبب کی طرف ہے اوریہ حکم استحبابی ہے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ مسواک فرض ہو۔
۲
؎کہ اتنی زیادہ مسواک کرو جن سے مسوڑے چھل جائیں ان کے باربار عرض کی وجہ سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 386