Main Icon

باب : مسواک کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 385

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُرَانِيْ فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِيْ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْاٰخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيْلَ لِيْ: كَبِّرْ فَدَفَعْتُهٗ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أراني في المنام أتسوك بسواك فجاءني رجلان أحدهما أكبر من الاخر فناولت السواك الأصغر منهما فقيل لي: كبر فدفعته إلى الأكبر منهما "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں میرے پاس دو شخص آئے جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہے،میں نے مسواک چھوٹے کو دی تو مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دیجئے لہذا میں نے بڑے کو دیدی ۱؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱؎غالبا ً وہ د ونوں ایک ہی طرف ہوں گے اور چھوٹا حضور سے قریب ہوگا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب کا لحاظ فرماتے ہوئے پہلے اس کو دی تو رب کی طرف سے حکم ہوا کہ قرب پر بڑائی کو ترجیح دیجئے۔اگرچہ یہ واقعہ خواب کا ہے مگر نبی کی خواب بھی وحی ہوتی ہے لہذا اب حکم یہی ہے کہ مسواک یا کوئی اور چیز ترتیب وار دینا ہے تو بڑے کو پہلے دی جائے،بشرطیکہ دونوں ایک ہی جانب میں ہوں۔اور اگر دونوں طرف ہوں تو پہلے داہنے والے کو دی جائے،پھر بائیں والے کو،جیسا کہ دیگر احادیث میں ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔خیال رہے کہ وہ دونوں خواب میں آنے والے فرشتے ہوں گے جو شکل انسانی میں آئے اور مسواک بطور تمثیل دکھائی گئی تاکہ اس سے شرعی مسائل معلوم ہوں کہ اپنی مسواک دوسرے کو استعمال کے لیے دے سکتے ہیں اور طر یقہ دینے کا یہ ہوگا،جیسے داؤد علیہ السلام کی خدمت میں دو فرشتے شکل انسانی میں آئے اور بکریوں کا مسئلہ پیش کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 385