- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1420
باب : خوف کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1420
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهٗ وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَی العَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهٗ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِيْ لَمْ تُصَلِّ فَجَاؤُوْا فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بهم رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَكَعَ لِنِفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَرَوٰى نَافِعٌ نَحْوَهٗ وَزَادَ: فَإِن كَانَ خوف هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذٰلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلیٰ أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا قَالَ نَافِعٌ: لَا أُرٰى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذٰلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد فوازينا العدو فصاففنا لهم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي لنا فقامت طائفة معه وأقبلت طائفة علی العدو وركع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمن معه وسجد سجدتين ثم انصرفوا مكان الطائفة التي لم تصل فجاؤوا فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم بهم ركعة وسجد سجدتين ثم سلم فقام كل واحد منهم فركع لنفسه ركعة وسجد سجدتين وروى نافع نحوه وزاد: فإن كان خوف هو أشد من ذلك صلوا رجالا قياما علی أقدامهم أو ركبانا مستقبلي القبلة أو غير مستقبليها قال نافع: لا أرى ابن عمر ذكر ذلك إلا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سالم ابن عبد الله ابن عمر سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا ۱∞؎ہم دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے اور انکے سامنے صفیں بنائیں تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہی۲؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع کیا اور دوسجدے کیئے پھر یہ لوگ اس جماعت کی جگہ سے چلے گئے جس نے نماز نہ پڑھی تھی وہ ادھر آگئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھادی اور دو سجدےکرلیئے پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنی ایک رکعت پڑھ لی ۳؎اور دوسجدے کر لیئے ۴؎حضرت نافع نے یونہی روایت کی یہ زیادہ کیا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو غازی پیدل اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار نماز پڑھ لیں قبلے کو منہ ہو یا نہ ہو ۵؎نافع کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر نے یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہی روایت کی ۶؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎نجد کے لغوی معنی ہیں اونچی جگہ،لیکن اصطلاح میں عرب کے ایک صوبہ کا نام ہے،شیخ نے فرمایا کہ یہاں نجد،عراق اور حجاز مراد ہے نہ کہ نجدیمن۔۲؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم نے لشکر صحابہ کے دو حصےکردیئے ایک کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ایک کو دشمن کے مقابل نہ کسی کو علیٰحدہ نماز پڑھنے کی اجازت دی نہ دوسری جماعت کرنے کی،نہ دوسرے امام کی اقتدا میں تاکہ سب حضور صلی الله علیہ وسلم کی اقتداء کا فیض پالیں۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت ایسی اہم چیز ہے جو ایسے نازک موقع پر بھی نہ چھوڑی گئی۔افسوس ان لوگوں پر جوبلاعذرنمازباجماعت چھوڑ دیں۔دوسرے یہ کہ نفل والے کے پیچھے فرض نمازجائزنہیں،ورنہ حضورصلی الله علیہ وسلم ان لوگوں کو دوبارنماز پڑھا دیتے اول جماعت کو فرض کی نیت سے اور دوسری کو نفل کی نیت سے۔تیسرے یہ کہ جماعت واجب ہے محض سنت نہیں۔۳؎خلاصہ یہ ہے کہ پہلی جماعت نے پہلی رکعت حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل ہوگئے اور دوسرےگروہ نے دوسری رکعت حضور کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل کھڑے ہوگئے اب پہلی جماعت نے اپنی دوسری رکعت بطریق لاحق پوری کرلی پھر دوسری جماعت نے بطریق مسبوق رکعت اول پوری کی،یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔۴؎اسی ترتیب سے جو ابھی فقیر نے عرض کی۔پہلے جماعت اول نے رکعت اپنی قضا کی پھر جماعت دوم نےجیساکہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں یہ طریقہ قرآن کریم کی اس آیت کے بہت موافق ہے جو صلوۃ خوف کے بارے میں آئی۔۵؎یعنی سخت خوف کے موقعہ پر جب اس طرح نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہو تو غازی نماز قضا نہ کریں بھاگتے دوڑتے،پیدل یا سوار جیسے ہوسکے پڑھ لیں مگر پڑھیں وقت میں۔خیال رہے کہ غزوہ خندق میں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا پانچ نمازیں قضاءفرما دینا اس خوف کی بنا پر نہ تھا کیونکہ وہاں اس وقت دشمن موجود ہی نہ تھا وقت تنگ تھا،کھدائی زیادہ تھی،نمازوں کاوقت کھدائی میں صرف ہوا،لہذا واقعہ خندق نہ منسوخ ہے نہ اس کے مخالف کیونکہ جنگ میں غازیوں کو صرف اپنی جانوں کا خطرہ ہوتا ہے اور جنگ خندق میں سارا مدینہ خطرے میں تھا۔۶؎کیونکہ صحابی کا وہ قول جوعقل سے وراء ہو حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے،اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سےبھی ہورہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا"۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1420