Main Icon

باب : خوف کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1420

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهٗ وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَی العَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهٗ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِيْ لَمْ تُصَلِّ فَجَاؤُوْا فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بهم رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَكَعَ لِنِفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَرَوٰى نَافِعٌ نَحْوَهٗ وَزَادَ: فَإِن كَانَ خوف هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذٰلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلیٰ أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا قَالَ نَافِعٌ: لَا أُرٰى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذٰلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد فوازينا العدو فصاففنا لهم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي لنا فقامت طائفة معه وأقبلت طائفة علی العدو وركع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمن معه وسجد سجدتين ثم انصرفوا مكان الطائفة التي لم تصل فجاؤوا فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم بهم ركعة وسجد سجدتين ثم سلم فقام كل واحد منهم فركع لنفسه ركعة وسجد سجدتين وروى نافع نحوه وزاد: فإن كان خوف هو أشد من ذلك صلوا رجالا قياما علی أقدامهم أو ركبانا مستقبلي القبلة أو غير مستقبليها قال نافع: لا أرى ابن عمر ذكر ذلك إلا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سالم ابن عبد الله ابن عمر سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا ۱∞؎ہم دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے اور انکے سامنے صفیں بنائیں تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہی۲؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع کیا اور دوسجدے کیئے پھر یہ لوگ اس جماعت کی جگہ سے چلے گئے جس نے نماز نہ پڑھی تھی وہ ادھر آگئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھادی اور دو سجدےکرلیئے پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنی ایک رکعت پڑھ لی ۳؎اور دوسجدے کر لیئے ۴؎حضرت نافع نے یونہی روایت کی یہ زیادہ کیا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو غازی پیدل اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار نماز پڑھ لیں قبلے کو منہ ہو یا نہ ہو ۵؎نافع کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر نے یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہی روایت کی ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نجد کے لغوی معنی ہیں اونچی جگہ،لیکن اصطلاح میں عرب کے ایک صوبہ کا نام ہے،شیخ نے فرمایا کہ یہاں نجد،عراق اور حجاز مراد ہے نہ کہ نجدیمن۔۲؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم نے لشکر صحابہ کے دو حصےکردیئے ایک کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ایک کو دشمن کے مقابل نہ کسی کو علیٰحدہ نماز پڑھنے کی اجازت دی نہ دوسری جماعت کرنے کی،نہ دوسرے امام کی اقتدا میں تاکہ سب حضور صلی الله علیہ وسلم کی اقتداء کا فیض پالیں۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت ایسی اہم چیز ہے جو ایسے نازک موقع پر بھی نہ چھوڑی گئی۔افسوس ان لوگوں پر جوبلاعذرنمازباجماعت چھوڑ دیں۔دوسرے یہ کہ نفل والے کے پیچھے فرض نمازجائزنہیں،ورنہ حضورصلی الله علیہ وسلم ان لوگوں کو دوبارنماز پڑھا دیتے اول جماعت کو فرض کی نیت سے اور دوسری کو نفل کی نیت سے۔تیسرے یہ کہ جماعت واجب ہے محض سنت نہیں۔۳؎خلاصہ یہ ہے کہ پہلی جماعت نے پہلی رکعت حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل ہوگئے اور دوسرےگروہ نے دوسری رکعت حضور کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل کھڑے ہوگئے اب پہلی جماعت نے اپنی دوسری رکعت بطریق لاحق پوری کرلی پھر دوسری جماعت نے بطریق مسبوق رکعت اول پوری کی،یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔۴؎اسی ترتیب سے جو ابھی فقیر نے عرض کی۔پہلے جماعت اول نے رکعت اپنی قضا کی پھر جماعت دوم نےجیساکہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں یہ طریقہ قرآن کریم کی اس آیت کے بہت موافق ہے جو صلوۃ خوف کے بارے میں آئی۔۵؎یعنی سخت خوف کے موقعہ پر جب اس طرح نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہو تو غازی نماز قضا نہ کریں بھاگتے دوڑتے،پیدل یا سوار جیسے ہوسکے پڑھ لیں مگر پڑھیں وقت میں۔خیال رہے کہ غزوہ خندق میں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا پانچ نمازیں قضاءفرما دینا اس خوف کی بنا پر نہ تھا کیونکہ وہاں اس وقت دشمن موجود ہی نہ تھا وقت تنگ تھا،کھدائی زیادہ تھی،نمازوں کاوقت کھدائی میں صرف ہوا،لہذا واقعہ خندق نہ منسوخ ہے نہ اس کے مخالف کیونکہ جنگ میں غازیوں کو صرف اپنی جانوں کا خطرہ ہوتا ہے اور جنگ خندق میں سارا مدینہ خطرے میں تھا۔۶؎کیونکہ صحابی کا وہ قول جوعقل سے وراء ہو حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے،اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سےبھی ہورہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1420