Main Icon

باب : خوف کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1423

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَفْنَا خَلْفَهٗ صَفَّيْنِ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ثُمَّ قَامُوا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُود وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولٰى وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدو فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فصففنا خلفه صفين والعدو بيننا وبين القبلة فكبر النبي صلى الله عليه وسلم وكبرنا جميعا ثم ركع وركعنا جميعا ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه وقام الصف المؤخر في نحر العدو فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم السجود وقام الصف الذي يليه انحدر الصف المؤخر بالسجود ثم قاموا ثم تقدم الصف المؤخر وتأخر المقدم ثم ركع النبي صلى الله عليه وسلم وركعنا جميعا ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه الذي كان مؤخرا في الركعة الأولى وقام الصف المؤخر في نحر العدو فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم السجود والصف الذي يليه انحدر الصف المؤخر بالسجود فسجدوا ثم سلم النبي صلى الله عليه وسلم وسلمنا جميعا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی ہم نے حضور کے پیچھے دو صفیں بنائیں دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا ۱∞؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تکیبرکہی ہم سب نے تکبیرکہی پھر حضور نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا پھر حضورنے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے اٹھایا پھر آپ اور وہ صف جو آپ سےمتصل تھی سجدہ میں گئے اور پچھلی صف دشمن کے مقابل کھڑی رہی۲؎تو جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سجدہ پوراکرلیا اور آپ سےمتصل صف بھی کھڑی ہوگئی توپچھلی صف سجدہ میں گرگئی پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے پھر پچھلی صف آگے ہوگئی اور اگلی صف پیچھے چلی گئی پھرحضور انورصلی الله علیہ وسلم نے اور ہم سب نے رکوع کیا پھرحضور نے اور ہم سب نے رکوع سے سر اٹھایا پھرحضور اور وہ صف جو آپ سے متصل تھی اور جو رکعت اولیٰ میں پچھلی صف تھی سجدہ میں گئے ا ور پچھلی دشمن کے مقابل کھڑی رہی۳؎پھرجب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اور آپ سےمتصل صف نےسجدہ کرلیا پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اور ہم سب نے اکٹھا سلام پھیرا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎سارے صحابہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوگئے جن کی لمبی لمبی دوصفیں ہوگئیں۔تکبیرتحریمہ قیام،رکوع اور قومہ سب نے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کیا مگر سجدے میں فرق ہوگیا۔۲؎یعنی اس صف نے سجدہ نہ کیا تاکہ دشمن ٹوٹ نہ پڑے بلکہ یونہی دشمن کے مقابل کھڑی رہی۔خیال رہے کہ اس صورت میں سارے صحابہ ہتھیار بند نماز پڑھ رہے تھے،چونکہ دشمن جانب قبلہ میں تھا اس لیئے ایک جماعت کو کہیں جانے کی ضرورت نہ پڑی،کھڑا رہنے والا ٹولا صرف دشمن کی نگرانی کررہا تھا اگر اس وقت حملہ ہوتا تو یہ سجدے والوں کو خبرکردیتا اور سب ایک دم مقابلہ کرتے،یہ نہ ہوتا کہ سجدے والوں کے اوپرگزرکر ان کا مقابلہ کرتے۔۳؎بعض شارحین نے کہا کہ ان صفوں کا آگے پیچھے ہٹنا دوقدموں سےتھا نہ کہ تین سے،ورنہ نماز جاتی رہتی مگر یہ غلط ہے کیونکہ نماز خوف میں چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی ہے،یہ تو بڑی خطرناک حالت ہوتی ہے۔اگر نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو نمازی وضو کے لیئے چل بھی سکتا ہے،کعبہ سے پھربھی سکتا ہے۔۴؎اس صور ت میں تمام مقتدیوں کو دونوں رکعتیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مل گئیں اور سب تکبیرتحریمہ اور سلام میں امام کے ساتھ شریک رہے،یہ واقعہ مقام عسفان کا ہے اور نمازخوف کا یہ بھی ایک طریقہ ہے جب کہ دشمن جانب قبلہ ہو،مگر ترجیح پہلے طریقہ کو ہوگی کیونکہ وہی آیت قرآنی کے زیادہ موافق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1423