- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1422
باب : خوف کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1422
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِذْ كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلیٰ شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهٗ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: “لَا” . قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: “اللهُ يَمْنَعُنِي مِنْك” . قَالَ: فَتَهَدَّدَهٗ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهٗ قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَ صَلّٰى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرٰى رَكْعَتَيْنِ قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن جابر قال: أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذ كنا بذات الرقاع قال: كنا إذا أتينا علی شجرة ظليلة تركناها لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فجاء رجل من المشرکين وسيف رسول الله صلى الله عليه وسلم معلق بشجرة فأخذ سيف نبي الله صلى الله عليه وسلم فاخترطه فقال لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أتخافني؟ قال: “لا” . قال: فمن يمنعك مني؟ قال: “الله يمنعني منك” . قال: فتهدده أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فغمد السيف وعلقه قال: فنودي بالصلاة فصلى بطائفة ركعتين ثم تأخروا و صلى بالطائفة الأخرى ركعتين قال: فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم أربع ركعات وللقوم ركعتان(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گئے حتی کہ جب ذات الرقاع میں پہنچے فرماتے ہیں کہ جب ہم کبھی کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تھے تو وہ درخت حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیئے چھوڑ دیتے تھے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ کفار کا ایک شخص آیا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی تو اسنے حضور صلی الله علیہ وسلم کی تلوار سونت لی ۲؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں،فرمایا نہیں وہ بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا فرمایا مجھے تجھ سے الله بچائے گا۳؎فرماتے ہیں کہ اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ نے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں کرکے لٹکا دی۴؎فرماتے ہیں کہ نماز کی اذان ہوئی تو آپ نے ایک ٹولے کو دو رکعتیں پڑھادیں وہ پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے ٹولے کو دو رکعتیں پڑھادیں تو حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئی اور قوم کی دو،دو رکعتیں ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎تاکہ حضور صلی الله علیہ وسلم اس کے سایہ میں آرام کریں،باقی لوگ اور درختوں کے نیچے دوپہرگزارتے تھےکیونکہ ان کے ساتھ خیمے اورچھولداریاں نہ تھیں،جب پہننے کے لیئے جوتے نہ تھے تو خیمے وغیرہ کہاں سے آتے یہاں بھی حسبِ دستور ایک درخت کے نیچے حضور صلی الله علیہ وسلم نے آرام کیا صحابہ نے اور درخت کے نیچے۔۲؎کیونکہ اس وقت سرکار یا سو رہے تھے یا اس طرف سے بےتوجہ تھے۔۳؎یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا تو کل رب تعالٰی پر کیوں نہ ہوتا،رب تعالٰی نے آپ سے وعدہ کرلیا تھا"وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ"۔اس واقعہ سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی شجاعت،آپ کا تکلیفوں پرصبر،جاہلوں پرحلم سب کچھ معلوم ہوا۔۴؎علامہ واقدی نے اس جگہ لکھا کہ اسے قدرتی طور پر ایسی بیماری ہوگئی جس سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ خود بھی گرگیا۔بعض روایات میں ہے کہ وہ مسلمان ہوگیااور اس سے بہت خلقت نے ہدایت پائی،مگر ابو عمارہ فرماتے ہیں وہ اسلام تو نہ لایا لیکن آئندہ کبھی حضورصلی الله علیہ وسلم کے مقابل نہ ہوا،آپ کے اخلاق کریمانہ دیکھ کر کیونکہ وہ تو قتل کا مستحق ہوچکاتھا مگر حضورصلی الله علیہ وسلم نے معاف کردیا۔ہوسکتا ہے کہ اسےصحابہ نے دھمکایابھی ہو اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہیبت بھی اس پر طاری ہوگئی ہو جس سے پہلے وہ گر گیا،بعد میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے تسلی دینے پر اٹھ کر تلوار اس نے خود ہی ٹانگی ہو۔(از مرقاۃ)۵؎یہ حدیث مشکلات میں سے ہے کیونکہ اس سے پہلے ذات الرقاع میں دو رکعتیں پڑھنے کا ذکر ہوچکا ہے اوریہاں چار کا اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ پچھلی حدیث میں نماز فجر کا ذکر تھا اور یہاں نماز ظہر کا ذکر ہے کیونکہ ابھی یہاں دھوپ میں آرام کرنے کا ذکر ہوچکا ہے،نیز یہ حدیث امام شافعی کے بھی مخالف ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگر امام چار رکعتیں پڑھے گا تو مقتدیوں کو چار رکعتیں لامحالہ پڑھنی پڑیں گی اور یہاں ذکر ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے چار رکعتیں پڑھی اور قوم نے دو۲ دو۲۔اس کی توجیہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے وہاں پندرہ دن ٹھہر کر کفار کے محاصرے کی نیت فرمائی ہو اور اس بناء پر تمام صحابہ نے اور آپ نے چار رکعتیں ہی پڑھیں مگرصحابہ کی ہر جماعت نے دو رکعتیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے پڑھیں اور دو علیٰحدہ یہاں دو رکعتیں پڑھنے سے یہی مراد ہے اس کے علاوہ اور کوئی توجیہ اشکال سے خالی نہ ہوگی۔بعض نے کہا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے پہلی جماعت کے ساتھ فرض ادا کئے اور دوسری جماعت کے ساتھ نفل مگر یہ غلط ہے ورنہ پھر درمیان میں سلام پھیرنا چاہیئے تھا،نیز پھرصحابی یہ نہ فرماتے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں کیونکہ اب تو حضورصلی الله علیہ وسلم کی دو نمازیں ہوئیں نہ کہ ا یک نماز کی چار رکعتیں،بعض نے فرمایا کہ اس وقت قصر کے احکام آئے نہ تھے اس لیئے حضورصلی الله علیہ وسلم نے سب کو چار پڑھائیں،دو اپنی اقتداءمیں اور دوعلیٰحدہ مگر یہ بھی درست نہیں کیونکہ ذات الرقاع کا غزوہ ۵ ھ یا ۷ھ میں ہے،بعض نے کہا۸ ھ ∞میں ہے کیونکہ اس غزوہ میں ابوموسیٰ اشعری بھی شریک تھے اور وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں فتح خیبر کے بعد آئے ہیں اور فتح خیبر۷ ھ ∞ میں ہے،بعض مؤرخین نے فرمایا کہ غزوہ ذات الرقاع دوبار ہوا ہے ایک بار
۵ھ میں اور ایک بار ۷ھ یا ۸ ھ میں کچھ بھی سہی نماز قصر ۵ھ سے پہلے آچکی تھی، لہذا جوفقیرنے پہلےعرض کیا وہ ہی زیادہ قوی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1422