Main Icon

باب : خوف کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1422

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِذْ كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلیٰ شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهٗ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: “لَا” . قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: “اللهُ يَمْنَعُنِي مِنْك” . قَالَ: فَتَهَدَّدَهٗ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهٗ قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَ صَلّٰى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرٰى رَكْعَتَيْنِ قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذ كنا بذات الرقاع قال: كنا إذا أتينا علی شجرة ظليلة تركناها لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فجاء رجل من المشرکين وسيف رسول الله صلى الله عليه وسلم معلق بشجرة فأخذ سيف نبي الله صلى الله عليه وسلم فاخترطه فقال لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أتخافني؟ قال: “لا” . قال: فمن يمنعك مني؟ قال: “الله يمنعني منك” . قال: فتهدده أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فغمد السيف وعلقه قال: فنودي بالصلاة فصلى بطائفة ركعتين ثم تأخروا و صلى بالطائفة الأخرى ركعتين قال: فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم أربع ركعات وللقوم ركعتان(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گئے حتی کہ جب ذات الرقاع میں پہنچے فرماتے ہیں کہ جب ہم کبھی کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تھے تو وہ درخت حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیئے چھوڑ دیتے تھے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ کفار کا ایک شخص آیا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی تو اسنے حضور صلی الله علیہ وسلم کی تلوار سونت لی ۲؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں،فرمایا نہیں وہ بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا فرمایا مجھے تجھ سے الله بچائے گا۳؎فرماتے ہیں کہ اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ نے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں کرکے لٹکا دی۴؎فرماتے ہیں کہ نماز کی اذان ہوئی تو آپ نے ایک ٹولے کو دو رکعتیں پڑھادیں وہ پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے ٹولے کو دو رکعتیں پڑھادیں تو حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئی اور قوم کی دو،دو رکعتیں ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تاکہ حضور صلی الله علیہ وسلم اس کے سایہ میں آرام کریں،باقی لوگ اور درختوں کے نیچے دوپہرگزارتے تھےکیونکہ ان کے ساتھ خیمے اورچھولداریاں نہ تھیں،جب پہننے کے لیئے جوتے نہ تھے تو خیمے وغیرہ کہاں سے آتے یہاں بھی حسبِ دستور ایک درخت کے نیچے حضور صلی الله علیہ وسلم نے آرام کیا صحابہ نے اور درخت کے نیچے۔۲؎کیونکہ اس وقت سرکار یا سو رہے تھے یا اس طرف سے بےتوجہ تھے۔۳؎یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا تو کل رب تعالٰی پر کیوں نہ ہوتا،رب تعالٰی نے آپ سے وعدہ کرلیا تھا"وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِاس واقعہ سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی شجاعت،آپ کا تکلیفوں پرصبر،جاہلوں پرحلم سب کچھ معلوم ہوا۔۴؎علامہ واقدی نے اس جگہ لکھا کہ اسے قدرتی طور پر ایسی بیماری ہوگئی جس سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ خود بھی گرگیا۔بعض روایات میں ہے کہ وہ مسلمان ہوگیااور اس سے بہت خلقت نے ہدایت پائی،مگر ابو عمارہ فرماتے ہیں وہ اسلام تو نہ لایا لیکن آئندہ کبھی حضورصلی الله علیہ وسلم کے مقابل نہ ہوا،آپ کے اخلاق کریمانہ دیکھ کر کیونکہ وہ تو قتل کا مستحق ہوچکاتھا مگر حضورصلی الله علیہ وسلم نے معاف کردیا۔ہوسکتا ہے کہ اسےصحابہ نے دھمکایابھی ہو اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہیبت بھی اس پر طاری ہوگئی ہو جس سے پہلے وہ گر گیا،بعد میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے تسلی دینے پر اٹھ کر تلوار اس نے خود ہی ٹانگی ہو۔(از مرقاۃ)۵؎یہ حدیث مشکلات میں سے ہے کیونکہ اس سے پہلے ذات الرقاع میں دو رکعتیں پڑھنے کا ذکر ہوچکا ہے اوریہاں چار کا اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ پچھلی حدیث میں نماز فجر کا ذکر تھا اور یہاں نماز ظہر کا ذکر ہے کیونکہ ابھی یہاں دھوپ میں آرام کرنے کا ذکر ہوچکا ہے،نیز یہ حدیث امام شافعی کے بھی مخالف ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگر امام چار رکعتیں پڑھے گا تو مقتدیوں کو چار رکعتیں لامحالہ پڑھنی پڑیں گی اور یہاں ذکر ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے چار رکعتیں پڑھی اور قوم نے دو۲ دو۲۔اس کی توجیہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے وہاں پندرہ دن ٹھہر کر کفار کے محاصرے کی نیت فرمائی ہو اور اس بناء پر تمام صحابہ نے اور آپ نے چار رکعتیں ہی پڑھیں مگرصحابہ کی ہر جماعت نے دو رکعتیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے پڑھیں اور دو علیٰحدہ یہاں دو رکعتیں پڑھنے سے یہی مراد ہے اس کے علاوہ اور کوئی توجیہ اشکال سے خالی نہ ہوگی۔بعض نے کہا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے پہلی جماعت کے ساتھ فرض ادا کئے اور دوسری جماعت کے ساتھ نفل مگر یہ غلط ہے ورنہ پھر درمیان میں سلام پھیرنا چاہیئے تھا،نیز پھرصحابی یہ نہ فرماتے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں کیونکہ اب تو حضورصلی الله علیہ وسلم کی دو نمازیں ہوئیں نہ کہ ا یک نماز کی چار رکعتیں،بعض نے فرمایا کہ اس وقت قصر کے احکام آئے نہ تھے اس لیئے حضورصلی الله علیہ وسلم نے سب کو چار پڑھائیں،دو اپنی اقتداءمیں اور دوعلیٰحدہ مگر یہ بھی درست نہیں کیونکہ ذات الرقاع کا غزوہ ۵ ھ یا ۷ھ میں ہے،بعض نے کہا۸ ھ ∞میں ہے کیونکہ اس غزوہ میں ابوموسیٰ اشعری بھی شریک تھے اور وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں فتح خیبر کے بعد آئے ہیں اور فتح خیبر۷ ھ ∞ میں ہے،بعض مؤرخین نے فرمایا کہ غزوہ ذات الرقاع دوبار ہوا ہے ایک بار
۵ھ میں اور ایک بار ۷ھ یا ۸ ھ میں کچھ بھی سہی نماز قصر ۵ھ سے پہلے آچکی تھی، لہذا جوفقیرنے پہلےعرض کیا وہ ہی زیادہ قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1422