Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1646

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوٰى ذٰلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَهٗ عَنْ رِقَابِكُمْ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنازے کو تیز لے جاؤ ۱∞؎اگر وہ نیک ہے تو بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے لے جارہے ہو اور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو وہ ایک بری چیز ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاررہے ہو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میت کو قبرستان تیز رفتار سے پہنچاؤ۔تیزی سے مراد عام رفتار سے زیادہ اور دوڑنے سےکم ہے،ہاں اگرمیت کے پھول یا پھٹ جانے کا اندیشہ ہو تو دوڑتے ہوئے لے جائیں۔۲؎یعنی ہر نیک اور بد میت کو تیز ہی لے جاناچاہیے،نیک کو اس لیے کہ اس کا اگلا گھر اس کے لیے خیرہے وہاں جلدی پہنچاؤ،بد کو اس لیے کہ وہ رحمت سے دور ہے تم سے بھی جلدی دور ہوجائے۔اس سےمعلوم ہوا کہ برے آدمی کی صحبت مرے بعدبھی اچھی نہیں چہ جائے کہ اس کی زندگی میں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1646