Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1660

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلٰى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ مَاتَ لَهٗ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهٗ مِنَ النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهٗ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلیٰ جَنَازَتِهٖ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن كريب مولى ابن عباس عن عبد الله بن عباس أنه مات له ابن بقديد أو بعسفان فقال: يا كريب انظر ما اجتمع له من الناس. قال: فخرجت فإذا ناس قد اجتمعوا له فأخبرته فقال: تقول: هم أربعون؟ قال: نعم. قال: أخرجوه فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “ما من رجل مسلم يموت فيقوم علی جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کریب ابن عباس کے مولےٰ سے وہ عبد الله ابن عباس سے راوی کہ ان کا فرزند قدید یا عسفان میں وفات پا گیا ۱∞؎تو آپ نے فرمایا کہ اےکریب دیکھو کتنے لوگ جمع ہو گئے فرماتے ہیں میں نکلا تو کچھ لوگ جمع ہو ہی گئے تھے میں نے آپ کو خبردی،فرمایا کیا تم کہہ سکتے ہو کہ چالیس ہوں گے میں نے کہا ہاں،فرمایا میت کو لاؤ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو مرجائے اس کے جنازے پر چالیس آدمی کھڑے ہوں جو الله کا کوئی شریک نہ بناتے ہوں الله ان کی سفارش اس میت کے بارے میں ضرورقبول فرماتا ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کریب تابعی ہیں،سیدنا ابن عباس کے آزاد کردہ غلام،قدید اورعسفان مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان مقامات ہیں۔۲؎مرقات میں ہے کہ جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے،اس کی برکت سے دوسروں کی بھی۔خیال رہے کہ یہ ذکر ولی تشریعی کا ہے،ولی تکوینی کی تعداد مقرر ہے کہ ہر زمانہ میں اتنے ابدال اتنے غوث اور ایک قطب عالم ہوں گے اورمسلمانوں سے مراد متقی مسلمان ہیں،ورنہ سینماؤں اور تماشہ گاہوں میں سینکڑوں فساق ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1660