Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1653

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلیٰ جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهٗ كَبَّرَ عَلیٰ جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان زيد بن أرقم يكبر علی جنائزنا أربعا وأنه كبر علی جنازة خمسا فسألناه فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبرها. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی لیلی سے فرماتے ہیں کہ زید ابن ارقم ہمارے جنازوں میں چارتکبیریں کہتے تھے انہوں نے ایک جنازہ پر پانچ کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا تو فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پانچ کہتے تھے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چاروں اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ نماز جنازہ میں چارتکبیریں ہیں جن پر بیشمار احادیث صحیحہ وارد ہیں۔اس حدیث سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ صحابہ کا عمل چارتکبیروں پر ہی تھا کیونکہ خود زید ابن ارقم چار ہی کہتے تھے اورجس نماز میں انہوں نے پانچ۵ کہیں تو صحابہ نے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی۔شارحین فرماتے ہیں کہ حضرت زید ابن ارقم بھول کر پانچ کہہ گئے تھے،جب صحابہ نے ان پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز درست ہوگئی کیونکہ پانچ تکبیروں پربھی حضور صلی الله علیہ وسلم کا عمل رہا ہے اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے۔ہم بھی کہتے ہیں کہ اگرکوئی بھولے سے پانچ تکبیریں کہہ جائے تو نماز فاسد نہ ہوگی۔خیال رہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے پانچ چھ تکبیریں بھی ثابت ہیں مگر وہ سب منسوخ ہیں۔چنانچہ مؤطا امام محمد میں ایک حدیث ہے جس میں ہے کہ عہد فِاروقی تک صحابہ نماز جنازہ میں کبھی تکبیریں چار کہتے،کبھی پانچ،کبھی چھ، حضرت عمرفاروق نے سب کو جمع کرکے فرمایا کہ اگر تم میں ہی اختلاف رہے گا تو قیامت تک سارے مسلمانوں میں اختلاف رہے گا،تحقیق کرو کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے آخری جنازوں میں تکبیریں کتنی کہیں تحقیق سے ثابت ہوا کہ آپ نے چار تکبیریں کہیں اسی پرصحابہ کرام کا اجماع ہوا۔چنانچہ حضرت عمر نے صدیق اکبر پر،حضرت ابن عمر نے عمرفاروق پر،حضرت حسن ابن علی نے جناب علی مرتضٰی پر،امام حسین نے حضرت حسن پر چارتکبیریں ہی کہیں،بلکہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کا جنازہ پڑھا تو آپ پر چارتکبیریں ہی کہیں۔اس کی پوری تحقیق کے لیے فتح القدیر،لمعات و مرقات میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1653