Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1684

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ النَّاسُ حَتّٰى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ وَكَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ طَرِيقِهَا جَالِساً وَكَرِهَ أَنْ تَعْلَوْا رَأْسَهٗ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن جعفر بن محمد عن أبيه أن الحسن بن علي كان جالسا فمر عليه بجنازة فقام الناس حتى جاوزت الجنازة فقال الحسن: إنما مر بجنازة يهودي وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم علی طريقها جالسا وكره أن تعلوا رأسه جنازة يهودي فقام. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے ۱∞؎وہ اپنے والد سے راوی کہ حضرت حسن ابن علی بیٹھے تھے کہ آپ پر جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے حتی کہ جنازہ آگے بڑھ گیا ۲؎تب حضرت حسن نے فرمایا کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تھا جس کے راستہ پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیٹھتے تھے آپ نے یہ ناپسندکیاکہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے اونچا ہو اس لیے کھڑے ہوگئے ۳؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام جعفر،لقب امام صادق ہے،والد کا نام محمد،لقب امام باقر،ان کے والدکا نام علی اوسط،لقب امام زین العابدین ہے، حادثہ کربلا سے صرف امام زین العابدین ہی بچ کر آئے تھے،حسینی سادات آپ ہی کی نسل پاک سے ہیں،امام حسین کے درمیانے صاحبزادے ہیں۔۲؎مگر آپ نہ کھڑے ہوئے کیونکہ آپ اس قیام کے نسخ سے واقف ہوچکے تھے لہذا یہ روایت گزشتہ کے خلاف نہیں۔۳؎یعنی وہاں سے اٹھ گئے تو آپ کا یہ قیام تعظیمًا نہ تھا بلکہ توہین یہود کے لیے تھا۔خیال رہے کہ قیام جنازہ کی بہت سی وجہیں آئی ہیں:فرشتوں کی تعظیم،میت مؤمن کا احترام،موت کی ہیبت وغیرہ ان میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے۔ہوسکتا ہے کہ مختلف موقعوں پرمختلف وجہیں ہوں،اس نیت سے کھڑا ہوجانا اب بھی بہتر ہے بشرطیکہ جنازہ کافر کا ہو اورمسلمان اس کے عین رستہ پربیٹھا ہو،یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ امام محمد باقر نے امام حسن سے ملاقات نہیں کی لہذا درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1684