Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1672

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأٰى نَاسًا رُكْبَانًا فَقَالَ: “أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللهِ عَلیٰ أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلیٰ ظُهُورِ الدَّوَابِّ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوٰى أَبُو دَاوُدَ نَحْوَهٗ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: وَقَدْ رَوىٰ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْقُوفاً

وعن ثوبان قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في جنازة فرأى ناسا ركبانا فقال: “ألا تستحيون؟ إن ملائكة الله علی أقدامهم وأنتم علی ظهور الدواب” . رواه الترمذي وابن ماجه وروى أبو داود نحوه وقال الترمذي: وقد روى عن ثوبان موقوفا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو آپ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا کیا حیاءنہیں کرتے کہ الله کے فرشتے پیدل ہیں اور تم گھوڑوں کی پشتوں پر ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد نے اس کی مثل،ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حضرت ثوبان سے موقوفًا بھی منقول ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنازہ کے ساتھ پیدل چلناچاہیئے،سواری گزشتہ حدیث میں معذور کے لیے تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں،لنگڑا بیمارسوار ہوکر ہی جاسکتاہے۔خیال رہے کہ یہاں فرشتوں سے مراد وہ رحمت یا عذاب کے فرشتے ہیں جو مؤمن یا کافر میت کے ساتھ ہوتے ہیں ورنہ کاتبین اور حافظین فرشتے ہر انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی نگاہ ہر وقت عالم غیب پر رہتی ہے،نیز یہ کہ بزرگوں کا ادب چاہیئے،نظر آئیں یا نہ آئیں،دیکھو صحابہ فرشتوں کو نہیں دیکھ رہے تھے مگر ان کو ادب کاحکم دیا گیا لہذا ذکر خیر اور میلاد کی مجلسوں میں کھڑا ہونا بہتر ہے کہ بعض بزرگوں نےحضور انورصلی الله علیہ وسلم کو ان موقعوں پر تشریف لاتے دیکھا ہے۔۲؎حضرت ثوبان نے یہ لوگوں سے خود کہا حضورصلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت نہ کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1672