Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1654

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلیٰ جَنَازَةٍ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَقَالَ: لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن طلحة بن عبد الله بن عوف قال: صليت خلف ابن عباس علی جنازة فقرأ فاتحة الكتاب فقال: لتعلموا أنها سنة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبد الله ابن عوف سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الله ابن عباس کے پیچھے ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو آپ نے سورۂ فاتحہ پڑھی پھر فرمایا تم جان لو کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھتیجے۔۲؎اس حدیث کی بناء پر لوگ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیئے،نماز پنجگانہ کی طرح اس میں بھی سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے مگر اس حدیث سے یہ مسئلہ ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا چند وجوہ سے:ایک یہ کہ اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عبد الله ابن عباس نے نماز جنازہ کے اندر سورۂ فاتحہ پڑھی بلکہ نماز جنازہ کے بعدمیت کو ایصال ثواب کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھی کیونکہ یہاںصَلَّیْتُکے بعدفَقَرَءَہےفتعقیبیہ سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ قرأت نماز کے بعدتھی جیسے "فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانۡتَشِرُوۡادوسرے یہ کہ اگر مان لیا جائے کہ آپ نے نماز کے اندر ہی پڑھی تو یہ پتہ نہیں چلتا کہ کس تکبیر کے بعد پڑھی۔تیسرے یہ کہ اگر کوئی تکبیربھی اپنی طرف سے مقررکرلو تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بہ نیت ثناء پڑھی یا بہ نیت دعاء یا بہ نیت تلاوت۔چوتھے یہ کہ آپ کے سورۂ فاتحہ پڑھنے پر سارے حاضرین صحابہ کو سخت تعجب ہوا تب آپ نے معذرت کے طور پرکہا کہ میں نے اس لیے عمل کیا تاکہ تم جانو کہ یہ نیت ہے۔معلوم ہوا کہ صحابہ اسکو سنت نہیں جانتے تھے اور نہ پڑھتے تھےتبھی تو آپ کو معذرت کرنی پڑی۔پانچویں یہ کہ آپ نے یہ نہ فرمایا کہ سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے بلکہ سنت لغوی فرمایا،یعنی یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ بجائے اور ثناء اور دعاء کے یہ پڑھ لی جائے۔احناف بھی کہتے ہیں کہ بہ نیت ثناءیا دعاالحمدپڑھناجائز ہے،بہ نیت تلاوت منع۔چھٹے یہ کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کہیں ثابت نہیں ہوا کہ آپ نے جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھی ہو۔ساتویں یہ کہ صحابہ کرام بھی جنازہ میں فاتحہ کی تلاوت نہ کرتے تھے۔چنانچہ مؤطا میںعن مالك عن نافعہے کہ سیدناعبد الله ابن عمر نماز جنازہ میں تلاوت قطعًا نہیں کرتے تھے،اسی مؤطا امام مالک میں ہے کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھاکہ نماز جنازہ کیسے پڑھی جائے تو آپ نے فرمایا کہ جب جنازہ رکھا جائے تو پہلے تکبیر کہو اور خدا کی حمد کرو،پھر درود شریف پڑھو،پھر یہ دعا پڑھو"اللّٰھُمَّ عَبْدُكَ"الخ۔بہرحال اس حدیث سے نماز جنازہ میں تلاوت فاتحہ پر دلیل پکڑنا بالکل باطل ہے،مذہب احناف نہایت قوی ہے۔عینی شرح بخاری میں اس جگہ ہے کہ حضرت عمر وعلی وابن عمر، ابوہریرہ صحابہ اور عطاء طاؤس،سعیدابن مسیب،ابن سیرین،سعید ابن جبیر،شعبی اور مجاہد وغیرہ تابعین جنازہ میں فاتحہ کو منع کرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1654