Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1680

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلٰى قَالَ: كَانَ سَهْلُ ابْنُ حَنِيْفٍ وَقَيْسُ ابْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا فَقيل لَهما: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَيْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهٖ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهٗ : إِنَّهَا جَنَازَة يَهُودِيٍّ. فَقَالَ: “أَلَيْسَتْ نَفْساً؟”

عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان سهل ابن حنيف وقيس ابن سعد قاعدين بالقادسية فمر عليهما بجنازة فقاما فقيل لهما: إنها من أهل الأرض أي من أهل الذمة فقالا: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مرت به جنازة فقام فقيل له : إنها جنازة يهودي. فقال: “أليست نفسا؟”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی لیلے سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت سہل ابن حنیف اورقیس ابن سعد قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے۲؎کہ ان پر جنازہ گزرا وہ دونوں صاحب کھڑے ہوگئے ان سے کہا گیا کہ یہ جنازہ زمیندار یعنی ذمی کافر کا ہے۳؎تو انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ایک جنازہ گزرا آپ کھڑے ہوگئے عرض کیا گیا کہ یہ تویہودی کا جنازہ ہے فرمایا کیا یہ جان نہیں ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور تابعی بڑے عالم و زاہد ہیں،خلافت فاروقی میں شہادت پائی،فاروق اعظم سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے،کوفہ میں قیام رہا۔ایک سوبیس انصارصحابہ سے ملاقات ہے۔۲؎قادسیہ کوفہ سے پندرہ میل فاصلہ پرمشہور مقام ہے جو زمانہ فاروقی میں فتح ہوا،بہت معرکۃ الآرا غزوہ ہواہے۔۳؎یعنی کافر کی روح کا کوئی احترام نہیں اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے تو آپ کافر کے جسم کی تعظیم کیوں کرتے ہیں اور اس کے لیے کیوں کھڑے ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں لفظاھلِ ارضذلت کا لفظ تھا یعنی زمین بونے جوتنے والا یا ہماری زمین میں کام کرنے والا اس وقت بہترین پیشہ جہاد تھا پھرتجارت،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلٰکِنَّہٗۤ اَخْلَدَ اِلَی الۡاَرْضِ۴؎یعنی یہ انسانی جان ہے جس کی موت سے عبرت پکڑنا چاہیئے ہمارا قیام اس کی تعظیم کے لیے نہیں بلکہ اظہار ہیبت کے لیےہے۔خیال رہے کہ میت کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہے،ان بزرگوں کو یا تو نسخ کی خبر نہ ہوئی یا بیان جواز کے لیے کھڑے ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1680