Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1657

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سمرة بن جندب قال: صليت وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم علی امرأة ماتت في نفاسها فقام وسطها(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت پر نماز پڑھی جو اپنے نفاس میں فوت ہوئی تھی تو آپ اس کے درمیان کھڑے ہوئے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎درمیان سے مراد کمر یا سینہ ہے،دوسرے معنے زیادہ ظاہرہیں۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک امام میت کے سینہ کے مقابل کھڑا ہو میت مرد ہو یا عورت کیونکہ سینہ میں دل ہے اور دل میں ایمان اس لیے کہ امام احمدنے دونوں کی روایت کی،ابو غالب فرماتے ہیں میں نے حضرت انس کے پیچھے ایک جنازہ پڑھا تو آپ میت کے سینہ کے مقابل کھڑے ہوئے،امام شافعی کے ہاں مرد کے سر کے مقابل کھڑا ہو اورعورت کے سینہ کے مقابل ان کی دلیل یہ ہے مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ یہاں وسط فرمایا یعنی درمیان،عجزہ نہ فرمایا یعنی کمر،اعضاء کے لحاظ سے سینہ ہی وسط ہےکیونکہ سینہ کے اوپر ہاتھ اور سر ہے اور اس کے نیچے پیٹ اورپاؤں،نیز ہوسکتا ہے کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم سینہ کے مقابل کھڑے ہوں کمر کی طرف مائل،راوی نے اسے مقابل کمرسمجھ لیا،یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس میت پر ہنڈولہ نہ ہو تو حضورصلی الله علیہ وسلم لوگوں سے آڑ بننے کے لیے کمر کے مقابل کھڑے ہوگئے ہوں تاکہ میت کا پردہ رہے،اتنے احتمالات کے ہوتے ہوئے ان کے استدلال یقینًا کمزور ہیں۔(از مرقات ولمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1657