Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1664

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلٰى مَا قَدَمُّوا” رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا” رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مُردوں کو برا نہ کہو وہ اپنے گزشتہ کیے تک پہنچ گئے ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ نہ کہو کہ اب وہ جہنمی یا بُرے ہیں اسی لیے علماءفرماتے ہیں کہ کفارکوبھی ان کے مرنے کے بعد اب کافر نہیں کہہ سکتے،ممکن ہے کہ وہ موت کے وقت مؤمن ہوگئے ہوں سوائے ابوجہل ابولہب وغیرہ ان کافروں کے جن کا کفر نص میں آگیا، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کافر بےدین تھے بلکہ ضرورت کے وقت یہ کہنا واجب ہے۔محدثین راویان حدیث کے عیوب ان کے مرے بعدبیان کرتے ہیں حدیث کی تحقیق کے لیے۔خیال رہے کہ کسی کو برا کہنا اور ہے اورکسی کے متعلق بے اختیار منہ سے برائی نکل جانا اور،لہذا یہ حدیث"اَنْتُمْ شُہَدَاءُالله"کی حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1664