Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1685

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِذَا مَرَّتْ بِكَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مُسْلِمٍ فَقُومُوا لَهَا فَلَسْتُمْ لَهَا تَقُومُونَ إِنَّمَا تَقُومُونَ لِمَنْ مَعهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “إذا مرت بك جنازة يهودي أو نصراني أو مسلم فقوموا لها فلستم لها تقومون إنما تقومون لمن معها من الملائكة” . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب یہودی یا عیسائی یا مسلمان کا جنازہ تم پرگزرے تو تم کھڑے ہوجاؤ تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہوتے بلکہ اس کے ساتھ والے فرشتوں کے لیئے کھڑے ہوتے ہو ۱∞؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎حضورصلی الله علیہ وسلم کا ابوموسیٰ کوقُوْمُوْافرمانا احترام کے لیے ہے یا بظاہر خطاب ان سے ہے اور درحقیقت ساری امت سے ہے جیسے"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَپہلےعرض کیاجاچکاہے کہ یہ اور اس کی قسم کی ساری احادیث منسوخ ہیں مگر وجوب منسوخ ہے جواز باقی اور کافر کے جنازے کے لیے کھڑا نہ ہونا بہتر کہ تمہاری نیت اگرچہ فرشتوں کی تعظیم ہوگی مگر دیکھنے والے اسے کافر کی تعظیم سمجھیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1685