Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1687

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الِمُسْلِمينَ إِلَّا أَوْجَبَ” . فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِهَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيْ: قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ إِذَا صَلّٰى الْجِنَازَة فَتَقَالَّ النَّاسُ عَلَيْهَا جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ صَلّٰى عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ أَوْجَبَ” . وَرَوىٰ اِبْنُ مَاجَه نَحْوَهٗ

وعن مالك بن هبيرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “ما من مسلم يموت فيصلي عليه ثلاثة صفوف من المسلمين إلا أوجب” . فكان مالك إذا استقل أهل الجنازة جزأهم ثلاثة صفوف لهذا الحديث. رواه أبو داود وفي رواية الترمذي: قال كان مالك بن هبيرة إذا صلى الجنازة فتقال الناس عليها جزأهم ثلاثة أجزاء ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من صلى عليه ثلاثة صفوف أوجب” . وروى ابن ماجه نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک ابن ہبیرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ایسا کوئی مسلمان جو مرے تو اس پرمسلمانوں کی تین صفیں نماز پڑھیں مگر الله واجب کردیتا ہے ۱∞؎مالک جب جنازے والوں کو تھوڑا دیکھتے تو انہیں اس حدیث کی وجہ سےتین صفوں میں بانٹ دیتے ۲؎(ابوداؤد)ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ مالک ابن ہبیرہ جب جنازہ پر نماز پڑھتے جس پر لوگوں کو کم دیکھتے تو ان کے تین حصے کردیتے پھر فرماتے فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس پر تین صفیں نماز پڑھیں واجب ہوگئی۳؎اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث بہت امید افزاءہے کیونکہ یہاں صفوں کی حد بیان نه فرمائی گئی اگر دو آدمیوں کی صفیں بھی نماز جنازہ میں ہو جائیں تب بھی میت کی بخشش کی قومی امید ہے۔یہ سب اس امت مرحومہ پرحضورصلی الله علیہ وسلم کے صدقہ سے رب کی رحمت ہے،رب کی رحمت بہانہ چاہتی ہے قیمت نہیں مانگتی۔۲؎اب بھی فقہاء فرماتے ہیں کہ تھوڑے نمازیوں کو بھی تین صفوں میں بانٹ کر جنازہ پڑھو یہ اسی حدیث پرعمل ہے۔خیال رہے کہ اور نمازوں میں صف اول افضل ہے مگر نماز جنازہ میں صف آخری بہتر۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بعدنماز جنازہ دعا نہ مانگے کیونکہ اس میں نماز پر زیادتی کا اشتباہ ہے۔اس کا مطلب ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ اسی طرح صفیں بنائے ہوئے کھڑے کھڑے دعا نہ مانگیں تاکہ آنے والے کو یہ شبہ نہ ہوکہ نماز ہورہی ہے جیسے فرائض کے بعدصفیں توڑ کرسنتیں پڑھنے کا حکم ہے تاکہ جماعت کا دھوکہ نہ ہومحض دعا منع کیسے ہوسکتی ہے وہ تو سنت ہے۔۳؎یعنی آپ ایسے جنازے کی نماز پڑھاکر لوگوں کو یہ حدیث سنا دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز جنازہ سے پہلے یا بعد جنازے کے متعلق تھوڑا وعظ کہہ دینا منع نہیں جب کہ اس سے دفن میں دیر نہ لگے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1687