Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1658

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ دُفِنَ لَيْلًا فَقَالَ: “مَتٰى دُفِنَ هَذَا؟” قَالُوا: الْبَارِحَةَ. قَالَ: “أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟” قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهٗ فصَلّٰى عَلَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بقبر دفن ليلا فقال: “متى دفن هذا؟” قالوا: البارحة. قال: “أفلا آذنتموني؟” قالوا: دفناه في ظلمة الليل فكرهنا أن نوقظك فقام فصففنا خلفه فصلى عليه(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اس کی قبر پرگزرے جو رات میں دفن کیا گیا تھا فرمایا یہ کب دفن کیا گیا انہوں نے عرض کیا آج رات فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی انہوں نے عرض کیا ہم نے اسے رات کے اندھیرے میں دفن کیا یہ ناپسند کیا کہ آپ کو جگائیں تو آپ کھڑے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں آپ نے اس پر نماز پڑھی ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رات میں دفن جائز ہے۔دوسرے یہ کہ دفن میں جلدی کی جائے کہ اگر رات میں دفن ممکن ہوتو بلا وجہ دن ہونے کا انتظار نہ کیا جائے،دیکھو صحابہ کرام نے حضورصلی الله علیہ وسلم کی نماز کے انتظار میں سویرے تک میت کو نہ رکھابلکہ خود اس پر نماز پڑھ کر دفن کردیا۔تیسرے یہ کہ قبر پر نماز جائز ہے جب غالب یہ ہو کہ ابھی میت محفوظ ہوگی،گلی پھٹی نہ ہوگی۔چوتھے یہ کہ حضورصلی الله علیہ وسلم سارے مسلمانوں کے ولی ہیں،رب فرماتاہے:"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْاگر ولی کے علاوہ اور لوگ نماز پڑھ لیں تو ولی کو دوبارہ جنازہ پڑھنے کا حق ہے،دیکھو صحابہ نے اس میت پر نماز پڑھ لی تھی مگر حضورصلی الله علیہ وسلم نے دوبارہ پڑھی،صحابہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے تابع ہوکر۔جب اُمّ سعد کا انتقال ہواتھا تب حضور صلی الله علیہ وسلم مدینہ سے باہر تھے،حضورصلی الله علیہ وسلم نے ایک مہینہ کے بعد ان کی قبر پر نماز پڑھی۔مرقات نے فرمایا کہ اس قبر والے کا مبارک نام طلحہ ابن براء ابن عمیر علوی ہے جو انصار کے حلیف ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس جنازہ میں یہ دعا پڑھی کہ یہ طلحہ ہیں تو ان سے راضی اور یہ تجھ سے راضی الخ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1658