Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1650

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَليٍّ قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ وَأَبِي دَاوُدَ: قَامَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ

وعن علي قال: رأينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فقمنا وقعد فقعدنا يعني في الجنازة. رواه مسلم وفي رواية مالك وأبي داود: قام في الجنازة ثم قعد بعد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہوتے رہے پھر آپ بیٹھنے لگےتو ہم بھی بیٹھنے لگے یعنی جنازے میں ۱∞؎(مسلم)اور مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ اولًا جنازے میں کھڑے ہوتے تھے پھر بعد میں بیٹھنے لگے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ احادیث کی ناسخ ہے،یعنی پہلے حضورصلی الله علیہ وسلم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے ہم بھی اسی پر عامل تھے،پھر بعد میں آپ نے یہ عمل چھوڑ دیا ہم نےبھی چھوڑدیا لہذا وہ کھڑا ہونا منسوخ ہے۔خیال رہے کہ وہ قیام منسوخ ہوا ہے جو صرف گھبراہٹ کے اظہار یا ملائکہ موت کی تعظیم کے لیے ہو اور ساتھ جانے کا ارادہ نہ ہو،ساتھ جانے کے لیے اٹھنا تو اب بھی ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1650