Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1656

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِيْ وَقَاصٍ قَالَتْ: اُدخُلُوْا بِهٖ الْمَسْجِدَ حَتّٰى أُصَلِّي عَلَيْهِ فَأُنْكِرَ ذٰلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ: سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سلمة بن عبد الرحمن أن عائشة لما توفي سعد بن أبي وقاص قالت: ادخلوا به المسجد حتى أصلي عليه فأنكر ذلك عليها فقالت: والله لقد صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم علی ابني بيضاء في المسجد: سهيل وأخيه. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسلمہ ابن عبدالرحمان سے کہ جب سعد ابن ابی وقاص کی وفات ہوئی ۱∞؎تو حضرت عائشہ نے فرمایا انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی ان پرنماز پڑھ سکوں۲؎اس کا آپ پر اعتراض کیا گیا۳؎تو آپ نے فرمایا الله کی قسم بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور ان کے بھائی پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تھی۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی وفات اپنےمحل میں ہوئی جو مدینہ منورہ سے دس میل دور مقام عقیق میں تھا،لوگ آپ کی میت اپنی گردنوں پر اٹھا کر مدینہ منورہ میں لائے تاکہ بقیع میں دفن کیا جائے،یہ واقعہ امیر معاویہ کے زمانہ میں ہوا۔۲؎یعنی ان کے جنازے کی جماعت مسجدنبوی میں کراؤ تاکہ اپنے حجرے سے میں بھی اقتداءکرلوں اور نماز میں شریک ہوجاؤ۔۳؎تمام صحابہ نے کہا کہ نماز جنازہ مسجد میں جائز نہیں۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے زمانہ میں کسی مسجدحتی کہ مسجد نبوی میں بھی نماز جنازہ نہ پڑھی جاتی تھی بلکہ وہ حضرات اس کو ناجائز جانتے تھے ورنہ انکارکیوں کرتے۔۴؎ان لڑکوں کا نام سہیل اورسہل ہے،ان کی ماں کا نام وعد بنت جھدم،لقب بیضاءہے،ان کے والد کا نام عمرو ابن وہب یا وہب ابن ربیعہ ہے جومشہور بدری صحابی ہیں،ان بچوں کا اور ان کے والد کا انتقال ۹ھ میں ہوا،یہ بچے اپنی ماں کی نسبت سے مشہور ہیں۔خیال رہے کہ مسجد پنجگانہ میں نماز جنازہ احناف کے نزدیک مطلقًا مکروہ ہے میت مسجد میں ہو یا نہ ہو اس لیے کہ ابوداؤد،ابن ماجہ میں یہ روایت حضرت ابوہریرہ سےہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو میت پرمسجد میں نماز پڑھے اس کا کوئی ثواب نہیں اور ایک روایت میں ہے"فَلَا شَیْئٌی لَہٗ"یعنی وہ کچھ نہیں،امام شافعی کے ہاں بلاکراہت جائز ہے، اس حدیث کی وجہ سے ان کی دلیل صرف یہی حدیث ہے مگر ان کا یہ استدلال بہت کمزور ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ تمام صحابہ کا حضرت عائشہ صدیقہ کے اس فرمان پر انکارکرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ حضرات مسجد میں نماز جنازہ ناجائز جانتے تھے اور ان کے زمانہ میں اس کا رواج بالکل نہ تھا۔دوسرے یہ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے بھی صرف یہی جنازہ مسجد میں پڑھا اس کے سواءکوئی مسجد میں نہ پڑھا اگر مسجد میں جنازہ جائز ہوتا تو آپ سارے جنازے وہیں پڑھا کرتے۔تیسرے یہ کہ یہ جنازہ بھی حضورصلی الله علیہ وسلم نے بارش یا اپنے اعتکاف کی مجبوری کی وجہ سے پڑھا،بحالت مجبوری احناف بھی اسے جائز کہتے ہیں۔چوتھے یہ کہ یہاں مسجد سے خارج مسجد مراد ہے،اتنے احتمالات کے ہوتے ہوئے اس حدیث سے استدلال کرنا یقینًا ضعیف ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1656