Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1692

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقَ شَيْءٍ وَالنَّاسُ خَلْفَهٗ يَعْنِي أَسْفَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيْ فِي الْمُجْتَبٰی فِيْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ

وعن أبي مسعود الأنصاري قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقوم الإمام فوق شيء والناس خلفه يعني أسفل منه. رواه الدارقطني في المجتبی في كتاب الجنائز

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا کہ امام کسی چیز پرکھڑا ہوا اور لوگ اس کے پیچھے یعنی اس سے نیچے ہوں ۱∞؎(دارقطنیکتاب الجنائزکے مجتبی میں)

شرح حدیث

۱∞؎ہر امام کا یہی حکم ہے خواہ نماز پنجگانہ کا امام ہو یا نماز جنازہ کا۔بظاہرمعلوم ہوتاہے کہ یہ حدیث "باب الامامت"میں آنی چاہیےتھی مگر مصنف یہاں لائے تاکہ معلوم ہواکہ اگر جنازہ سواری پر یا لوگوں کے ہاتھوں میں ہو تو نماز جنازہ جائز نہیں کیونکہ میت مثل امام کے ہوتی ہے تنہا اس کا اونچا ہونا یا الگ جگہ میں ہونا نماز کا مانع ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعد نماز جنازہ میت پر دعا ضرور ہی پڑھنی چاہیئے تاکہ جو لوگ کچھ دیر سے نماز میں شریک ہوئے ہیں وہ اپنی تکبیریں پوری کرلیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1692