Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1668

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ وَأَهْلُ الْحَدِيثِ كَأَنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ مُرْسَلًا

وعن الزهري عن سالم عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر يمشون أمام الجنازة. رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وقال الترمذي وأهل الحديث كأنهم يرونه مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زہری سے وہ سالم سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اورحضرت عمر کو جنازے سے آگے چلتے دیکھا۲؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)ترمذی نے کہاکہ محدثین اسے مرسل سمجھتے ہیں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے والدسیدناعبید الله ابن عمر ہیں یعنی سالم سیدنا فاروق اعظم کے پوتے ہیں۔۲؎بیان جواز کے لئے ورنہ جنازہ کے پیچھے چلنا افضل ہے تاکہ جنازے پرنظر رہے عبرت،نیز بوقت ضرورت مدد کرنے میں آسانی ہوجیساکہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔اس جگہ مرقات نے فرمایا کہ جنازے کے ساتھ بلند آواز سے ذکر مکروہ ہے آہستہ ذکر کریں۔فقیرکہتاہے کہ اس زمانہ میں ذکر بالجہر،نعت خوانی وغیرہ بہتر ہے ورنہ لوگ دنیاوی باتیں،ہنسی مذاق، غیبتیں،چغلیاں وغیرہ کرتے جاتےہیں۔اس کی بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔۳؎یعنی سالم حضورصلی الله علیہ وسلم سے راوی ہیں ان کی روایت میں عبد الله ابن عمر نہیں،ابن مالک نے فرمایاکہ اس کی اسناد قوی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1668