Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1651

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِم إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهٗ حَتّٰى يُصَلّٰى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَإِنَّهٗ يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلّٰى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهٗ يَرْجِعُ بِقِيْرِاطٍ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معه حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جومسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان سے بہ نیت ثواب جائے ۱∞؎اور اس کے ساتھ ہی رہے حتی کہ اس پرنماز پڑھ لے اور اس کے دفن سے فارغ ہوجائے تو وہ ثواب کے دو قیراط(حصے)لےکر لوٹے گا ہرحصہ احد کے برابر اور جو اس پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے وہ ایک حصہ لے کر لوٹے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان دو قیدوں سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کافر کا میت کے ساتھ جانا ثواب کاباعث نہیں کیونکہ اعمال کا ثواب ایمان سے ملتا ہے۔دوسرے یہ کہ ریا کاری،قومی نظریئے،کسی مالدارکو خوش کرنے کے لیے ساتھ جانے پربھی کوئی ثواب نہیں جیساکہ آج عمومًا دیکھاجارہا ہے کہ غریب کے جنازے پر اٹھانے والے بھی مشکل سے جمع ہوتے ہیں اور امیر کے جنازے پر اکثر خوشامدیوں کا ہجوم ہوتا ہے جو بغیر نماز جانے ہوئے بھی بے وضو ہی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔۲؎عمومًا دینار کے بیسویں حصے کو قیراط کہا جاتا ہے مگر شام والے چالیسویں حصے کو بعض اور علاقوں میں دینار کے چھٹے حصے کو قیراط کہتے ہیں یہاں تجریدًا صرف حصہ مراد ہے نہ کہ دینار کا حصہ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے یعنی صرف نماز جنازہ میں شرکت کرنے والا آدھا ثواب پاتاہے اور دفن میں بھی شرکت کرنے والا دگنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1651