Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1690

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: يَقْرَأُ الْحَسَنُ عَلَی الطِّفْلِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَيَقُولُ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سَلَفًا وَفَرَطاً وَذُخْراً وَأَجْراً

وعن البخاري تعليقا قال: يقرأ الحسن علی الطفل فاتحة الكتاب ويقول: اللهم اجعله لنا سلفا وفرطا وذخرا وأجرا

حدیث ترجمہ

روایت ہے بخاری سے بطریق تعلیق ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بچہ پر سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے ۲؎اور کہتے تھے الٰہی تو اسے ہمارے لیےگزشتگان میں سے اور پیش رو اور ذخیرہ اور ثواب بنا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎امام بخاری ترجمہ باب میں بھی کبھی بلا اسنادکوئی حدیث بیان کرجاتے ہیں وہ تعلیق کہلاتی ہے۔امام بخاری کی تعلیقات بالاتفاق قبول ہیں کہ ان کا اسنادچھوڑنا صحتِ حدیث کی دلیل ہے،دوسرے محدثین کا یہ درجہ نہیں۔۲؎حسن سے مراد خواجہ حسن بصری ہیں،آپ نماز سے پہلےیانماز کے بعد ایصال ثواب کی نیت سےالحمدشریف پڑھتے تھے یا نماز کے اندر پہلی تکبیر کے بعد بہ نیت ثناء یا تیسری کے بعد بہ نیت دعا اور اگربہ نیت تلاوت ہی پڑھتے ہوں تو یہ ان کا اپنا اجتہادی عمل ہے۔بہرحال یہ روایت نہ حنفیوں کے خلاف ہے اور نہ حنفیوں کے مقابلے میں دلیل۔۳؎متقدمین کو سلف کہتے ہیں اورمتاخرین کو خلف۔فرطوہ جماعت کہلاتی ہے جو فوج سے آگے پڑاؤ پرپہنچ کرلشکر کے کھانے پینے کا انتظام کریں۔اس روایت سےمعلوم ہوا کہ بچے کے جنازے میں اس کی مغفرت کی دعا نہ کی جائے کیونکہ وہ بے گناہ ہے بلکہ اس کو سا منے رکھ کر اپنے لیے دعا کی جائے کہ خدایا اسے ہمارا شفیع بنا جیسے کہ صحابہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز جنازہ میں اپنے لیے دعائیں کیں کہ خداوند انہیں ہمارا شفیع بنا اور ان کی طفیل ہمیں بخش دے۔اس سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ میت کے گناہ معاف کرانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ حقِ اسلام ہے لہذا شہید پر جنازہ پڑھاجائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1690