Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1683

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ: أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ ثُمَّ جَلَسَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن محمد بن سيرين قال: إن جنازة مرت بالحسن بن علي و ابن عباس فقام الحسن ولم يقم ابن عباس فقال الحسن: أليس قد قام رسول الله صلى الله عليه وسلم لجنازة يهودي؟ قال: نعم ثم جلس. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن سیرین سے فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ حضرت حسن ابن علی اور ابن عباس پرگزرا تو حسن کھڑے ہوگئے ابن عباس نہ کھڑے ہوئے امام حسن نے فرمایا کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم یہودی کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہوئے فرمایاہاں پھر بیٹھنے لگے ۱∞؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کھڑا ہونا یا نہ ہونا دونوں حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے عمل ہیں مگر نہ ہونا بعد کا ہے لہذا ناسخ ہے،حضرت ابن عباس نے امام حسن پر اعتراض نہ کیا۔معلوم ہوا قیام بھی جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1683