Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1667

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِيْ يَمْشِيْ خَلْفَهَا وَأَمَامَهَا وَعَنْ يَمِينهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَرِيْباً مِنْهَا وَالسَّقْطُ يُصَلّٰى عَلَيْهِ وَيُدْعٰى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيّ وَابْنُ مَاجَه قَالَ: “الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِيْ حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا وَالطِّفْلُ يُصَلّٰى عَلَيْهِ” وَفِي الْمَصَابِيْحِ عَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ زِيَادٍ

وعن المغيرة بن شعبة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “الراكب يسير خلف الجنازة والماشي يمشي خلفها وأمامها وعن يمينها وعن يسارها قريبا منها والسقط يصلى عليه ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة” . رواه أبو داود وفي رواية أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه قال: “الراكب خلف الجنازة والماشي حيث شاء منها والطفل يصلى عليه” وفي المصابيح عن المغيرة بن زياد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے ہی چلے۲؎اور پیدل اس کے آگےوپیچھے،دائیں،بائیں اس کے قریب چلے ۳؎اور گرے بچے پرنماز پڑھی جائے گی۴؎جس میں اس کے ماں باپ کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے ۵؎(ابوداؤد)اور احمد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جدھر چاہے اور بچے پر نماز پڑھی جائے اور مصابیح میں مغیرہ بن زیادہ سے ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،خندق کے سال ایمان لائے،امیرمعاویہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر رہے،ستر سال عمر ہوئی، ۵۰ ھ میں کوفہ میں ہی وفات پائی،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔۲؎جنازے میں شرکت کرنے والا عذرًا سوار ہوسکتا ہے بلاعذر پیدل جانا افضل ہے مگرسوار میت کے آگے نہ چلے۔۳؎پیدل جانے والے کوبھی پیچھے چلنا افضل ہے لیکن آگے چلنابھی جائز۔آج کل میت کے آگے نعت خوانی ہوتی جاتی ہے اور نعت خواں میت کے آگے چلتے ہیں یہ جائز ہے۔میت سے قریب رہنا اس لیے افضل ہے کہ بوقت ضرورت مدد کرنے میں بھی آسانی رہے گی اورعبرت زیادہ ہوگی۔۴؎بشرطیکہ زندہ پیدا ہوا ہوجیساکہ حضرت جابر کی روایت آگے آرہی ہے،اس کی زندگی رونے یاحرکت سےمعلوم ہو۔اگر مردہ بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کی نماز جنازہ نہیں۔امام احمد کے نزدیک اگر چار ماہ یا زیادہ کا بچہ ساقط ہوا ہے تو اگرچہ مردہ پیدا ہوا اس پر نماز جنازہ ہے وہ اسی حدیث کے اطلاق سے دلیل پکڑتے ہیں۔ہماری دلیل آئندہ آرہی ہے وہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے ورنہ یہ حدیث بظاہر ان کےبھی خلاف ہے کہ اس میں چار ماہ کی قید نہیں۔۵؎اس طرح کہ چارتکبیریں کہی جائیں چوتھی تکبیر میں اس کے ماں باپ کے لئے صبرو اجر اورتمام کے لئے بچہ کے شفیع ہونے کی دعا کی جائے۔پہلے دعاگزر چکی ہے بہت جامع ہے جس میں والدین اور تمام مسلمانوں کے لئے دعا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1667