Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1659

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابٌّ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: “أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟” قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ. فَقَالَ: “دَلُّوْنِيْ عَلیٰ قَبْرِهٖ” فَدَلُّوْهُ فصَلّٰى عَلَيْهَا. ثُمَّ قَالَ: “إِنَّ هٰذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلیٰ أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ” . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِمُسْلِمٍ

وعن أبي هريرة أن امرأة سوداء كانت تقم المسجد أو شاب ففقدها رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأل عنها أو عنه فقالوا: مات. قال: “أفلا كنتم آذنتموني؟” قال: فكأنهم صغروا أمرها أو أمره. فقال: “دلوني علی قبره” فدلوه فصلى عليها. ثم قال: “إن هذه القبور مملوءة ظلمة علی أهلها وإن الله ينورها لهم بصلاتي عليهم” . (متفق عليه) ولفظه لمسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک حبشی عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیتے تھے اسے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے گم پایا تو اس عورت یا مرد کے متعلق پوچھا لوگوں نے عرض کیا کہ وہ فوت ہوگیا فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی ۱∞؎راوی کہتے ہیں کہ شاید انہوں نے اس کا معاملہ حقیر جانا فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ لوگوں نے بتائی آپ نے اس قبر پر نماز پڑھی پھر فرمایا کہ یہ قبریں اپنی میتوں پر تاریکی سے بھریں ہیں الله میری نماز کی برکت سے انہیں نورانی کردیتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !اس شہنشاہ کی نظر کرم اپنے ہر گدا پر ہے۔شعر
کرم سب پر ہے کوئی ہو کہیں ہو تم ایسے رحمۃ اللعالمین ہو
مرقات نے فرمایا کہ جواب عرض کرنے والے ابوبکرصدیق تھے اور اس شخص کا نام اسود تھا رضی الله عنہم اجمعین۔
۲؎اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسجدکی خدمت بیکار نہیں جاتی۔صوفیاء کہتے ہیں کہ جو خانۂ دل کی صفائی چاہتا ہے وہ خانۂ خدا کی صفائی کیاکرے۔دوسرے یہ کہ اسلام میں کوئی حقیرنہیں،لوگوں نے غریب جان کر اس کی موت کی خبرحضورصلی الله علیہ وسلم کو نہ دی مگرغمخوار امت نے ا سکی قبر پر پہنچ کر اس کی خبر لی،امیرخسرو فرماتے ہیں۔شعر
کشتے کہ عشق دار دنگذاروت بزیں سال بجنازہ گر نہ آئی بمزار خواہی آمد
تیسرے یہ کہ بذاتِ خود ساری قبریں اندھیر ی ہیں،حضورصلی الله علیہ وسلم خود نور ہیں،آپ کی نماز اور آپ کی دعا بھی نور ہے۔
جس کی قبر روشن ہوگی حضور صلی الله علیہ وسلم کی دعا سے ہوگی۔جو احتمال روشنیٔ قبر کا سبب ہیں جیسے مسجد میں روشنی کرنا وغیرہ وہ بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے ہیں۔چوتھے یہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی یہ دعائیں اپنی امت کے لیے تاقیامت باقی ہیں ورنہ حضورصلی الله علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد ساری قبریں اندھیری رہتی ہیں۔ا شعۃ اللمعات نے یہاں فرمایا کہ یہاں صلوٰۃ بمعنی دعا ہے اسی لیے یہاں نہ تکبیروں کا ذکر ہے نہ صفیں بنانے کا،بعض لوگ ان احادیث کی بنا پر کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کئی بار ہوسکتی ہے مگر یہ غلط ہے،ورنہ تا قیامت ہمیشہ زائرین حضورصلی الله علیہ وسلم کے روضہ پرپہنچ کر آپ کی نماز جنازہ پڑھا کرتے۔ولی کے نماز پڑھ لینے کے بعد اورکسی کو جنازہ پڑھنے کا حق نہیں دیکھو،حضورصلی الله علیہ وسلم پر دو روز تک مسلسل نمازیں ہوتی رہیں مگر جب صدیق اکبر نے جو خلیفۃ المسلمین اور ولی رسول الله صلی الله علیہ وسلم تھے آپ پر نماز پڑھ لی پھرکسی نے نہ پڑھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1659