Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1669

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تُتَّبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ مَاجِدٍ الرَّاوِيُّ رَجُلٌ مَجْهُوْلٌ

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “الجنازة متبوعة ولا تتبع ليس معها من تقدمها” . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي وأبو ماجد الراوي رجل مجهول

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےکہ جنازے کے پیچھے رہا جاتاہے اسے پیچھے نہیں رکھا جاتا اور جو اس کے آگے رہے وہ اس کے ساتھ ہی نہیں ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا ابوماجد راوی مجہول آدمی ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ جنازے سے پیچھے رہنا بہتر ہے۔گزشتہ حدیث بیان جواز کے لیے تھی،نیز وہ خصوصی عمل تھا اور یہ عمومی حکم ہے لہذا اس حدیث کو ترجیح ہے۔۲؎مگر ابوماجد کا مجہول ہونا امام ابوحنیفہ کو کوئی مضر نہیں کیونکہ یہ امام اعظم کے بعد اس اسناد میں شامل ہوئے،امام اعظم کو یہ حدیث صحیح ہوکر ملی تھی،امام ترمذی کو مجہول ہوکر،نیز جنازہ سے پیچھے چلنے کی بہت احادیث ہیں۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے عبدالرحمن ابن ابزی سے روایت کی کہ میں ایک جنازے میں تھا دیکھا کہ حضرت ابوبکر وعمر تو جنازے سے آگے چل رہے تھے اور حضرت علی پیچھے،میں نے حضرت علی سے پوچھاکہ آپ پیچھے کیوں چل رہے ہیں فرمایا کہ وہ دونوں بزرگ بھی جانتے ہیں کہ پیچھے چلنا افضل ہے جیسے جماعت کی نماز تنہا نماز سے افضل،لیکن بیان جواز اور لوگوں کو تنگی سے بچانے کے لیے وہ حضرات آگے چل رہے ہیں۔غرضکہ پیچھے چلنے کی بہت سی احادیث ہیں اور یہی عمل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1669