Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1655

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلّٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهٖ وَهُوَ يَقُولُ: “اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهٗ وَارْحَمْهُ وَعَافِهٖ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهٗ وَوَسِّعْ مَدْخَلَهٗ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهٖ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الْدَنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْراً مِنْ دَارِهٖ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهٖ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهٖ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ” . وَفِي رِوَايَةٍ: “وَقِهٖ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ” قَالَ حَتّٰى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذٰلِكَ الْمَيِّتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عوف بن مالك قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم علی جنازة فحفظت من دعائه وهو يقول: “اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة وأعذه من عذاب القبر ومن عذاب النار” . وفي رواية: “وقه فتنة القبر وعذاب النار” قال حتى تمنيت أن أكون أنا ذلك الميت. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف بن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک جنازہ پرنماز پڑھی تو میں نے آپ کی دعا حفظ کرلی آپ فرماتے تھے الٰہی اسے بخش دے اور اس پر رحم کر،اسے عافیت دے،اسے معاف کر،اس کی مہمانی اچھی فرما،اس کی قبر فراخ کر اور اسے پانی برف اور اولے سے دھودے ۱∞؎اور اسے خطاؤں سے ایسا صاف کردے جیسے توسفید کپڑا میل سے صاف کرتاہے۲؎اور اس کو اس کے گھر سے اچھا گھر،گھر والوں سے اچھے گھر والے اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما۳؎اور اسے جنت میں داخل کر اور قبر اور آگ کے عذاب سے بچالے اور ایک روایت میں ہے اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچالے،فرماتے ہیں حتی کہ میں نے آرزو کی کہ یہ میت میں ہوتا۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں رب کی رحمت کوپانی،برف اور اولہ کہا گیا کیونکہ ٹھنڈے پانی سے نہانے میں دل کو خوشی،دماغ کو فرحت،جسم کی صفائی اور راحت سب کچھ ہی حاصل ہوتی ہے،یعنی مولے اسے دوزخ کی آگ میں تپاکر صاف نہ کرنا بالکل معافی اور رحمت کے ٹھنڈے پانی سے۔۲؎سفیدکپڑے کی صفائی دور سے محسوس ہوتی ہے اسی لیے سفیدکپڑے کی قید لگائی گئی۔۳؎قیامت کے بعد اسے جنت میں گھر دے،غلمان،خدام دے اور حوریں اور دنیا کی بیوی جو وہاں حوروں سےبھی خوبصورت ہوگی اورجس میں دنیا کی سی ظاہر و باطن کوئی خرابی نہ ہوگی وہ اسے نصیب کر،لہذا اس دعا پر اعتراض نہیں کہ جنت میں دنیا کی عورتیں حوروں سےبھی اچھی ہوں گی پھر یہ الفاظ کیوں ارشاد فرمائے گئے۔۴؎تاکہ مجھےحضورصلی الله علیہ وسلم کی اتنی دعائیں نصیب ہوتیں۔معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے یہ دعا اتنی آواز سے پڑھی جو قریب کے مقتدیوں نے سن لی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1655