Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1673

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَلَی الجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ علی الجنازة بفاتحة الكتاب.رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے جنازے پر سورۂ فاتحہ پڑھی۔(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎اس مسئلے کی پوری تحقیق پہلے ہوچکی کہ یہ حدیث مجمل ہے۔اس میں یہ ذکر نہیں کہ نماز کے اندر پڑھی یا بعد نماز ایصال ثواب کے لیے،اور اگر اندر پڑھی تو کس تکبیر کے بعد پڑھی اور تلاوت کی نیت سے پڑھی یا دعا کے لیے؟ اتنے احتمالات کے ہوتے حدیث پرعمل ناممکن ہے،نیز یہ حدیث مرفوع سخت ضعیف ہے۔چنانچہ ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں،وجہ یہ ہے کہ اس میں ابراہیم ابن عثمان واسطی ہے جو ضعیف اورمنکر الحدیث ہے۔حق یہ ہے کہ اس کے بارے میں حدیث مرفوع صحیح آئی ہی نہیں،حضورصلی الله علیہ وسلم سے جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنا کہیں ثابت نہیں،ابوداؤد نےبھی حدیث مرفوع نقل نہیں کی بلکہ عبد الله ابن عباس کا اپنا فعل نقل کیا لہذا صاحب مشکوٰۃ رحمۃ الله علیہ کا اس حدیث مرفوع کو ابوداؤد کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1673