Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1652

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعٰى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى المُصَلّٰى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم نعى للناس النجاشي اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر أربع تكبيرات(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی جس دن انہوں نے وفات پائی ۱∞؎اورحضور صحابہ کے ساتھ عیدگاہ تشریف لے گئے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نجاشی بادشاہ حبشہ کا لقب تھا،ان کا نام اصحمہ تھا،یہ پہلے عیسائی تھے بعد میں مسلمان ہوئے اورحبشہ میں مہاجرصحابہ کو امن بھی دی،ان کی خدمتیں بھی کیں،ان کا انتقال رجب ۹ھ میں ہوا۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی نگاہ دور نزدیک،غائب حاضر سب کو دیکھ لیتی ہیں کہ حبشہ اور مدینہ منورہ میں ایک مہینہ کا فاصلہ ہے۔(مرقات)۲؎اس سےمعلوم ہوا کہ پنجگانہ جماعت کی مسجد میں نماز جنازہ منع ہے میت مسجد میں ہو یا نہ ہو اسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ نماز مسجد نبوی شریف میں نہ پڑھی بلکہ ان کو باہر لے گئے۔اس حدیث کی بنا پربعض لوگ نماز جنازہ غائبانہ کے قائل ہیں مگر ان کی یہ دلیل کمزور ہے اس لیے کہ نماز غائبانہ صرف حضور صلی الله علیہ وسلم ہی نے پڑھی کسی صحابی نے کبھی نہ پڑھی۔چنانچہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت جو صحابہ غزووں یا مکہ مکرمہ وغیرہ میں تھے انہوں نےحضورصلی الله علیہ وسلم پر نماز غائبانہ نہ پڑھی،نیز حضورصلی الله علیہ وسلم نےبھی یہی نماز غائبانہ پڑھی بارہا صحابہ کی شہادتوں یا وفات کی خبریں آتی تھیں آپ نماز نہ پڑھتے تھے۔جن روایات میں ہے کہ آپ نے معاویہ ابن معاویہ مزنی،زید ابن حارثہ،جعفر ابن ابی طالب پر یہ غزوہ موتے میں شہید ہوئے تھے نماز غائبانہ پڑھی ہے ان کی اسنادوں میں محدثین کو کلام ہے کیونکہ ان اسنادوں میں علاء ابن زید یا بقیہ ابن ولید وغیرہم راوی ہیں جو بالاتفاق ضعیف ہیں اور اگر یہ احادیث صحیح بھی ہوں تو ان نمازوں کی وجہ یہ ہے کہ جبریل امین نے ان میتوں کو حضورصلی الله علیہ وسلم کے سامنے لاکر حاضر کردیا۔چنانچہ حضرت ابن عباس کے الفاظ یہ ہیں"کُشِفَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی الله عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ النِّجَاشِیْ حَتّٰی رَاٰہُ وَصَلَّی عَلَیْہِ"لہذا یہ نماز حضورصلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت میں سے ہے کیونکہ میت کا امام کے آگے ہونا کافی ہے مقتدی دیکھیں یا نہ دیکھیں،ورنہ حضورصلی الله علیہ وسلم تو ہرصحابی کا جنازہ پڑھاتے تھے حتی کہ جو رات میں دفن کردیئے جاتے ان کی قبر پر جاکر جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ مجھے ہر ایک کی موت کی خبر دیاکرو،میری نماز ان کے لیے رحمت ہے مگر سوائے اس کے اورکسی غائب صحابی پر نماز غائبانہ نہ پڑھی،لہذا اس حدیث سے نماز غائبانہ کا جواز ثابت کرنا بہت کمزور ہے۔مذہب حنفی نہایت قوی ہے کہ جنازے کی نمازحاضرمیت پرہوسکتی ہے نہ کہ غائب پر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1652