Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1662

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “وَجَبَتْ” ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرٰى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا. فَقَالَ: “وَجَبَتْ” فَقَالَ عُمَرُ: مَا وَجَبَتْ؟ فَقَالَ: “هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُم شُهَدَاءُ اللهِ فِي الأَرْضِ” . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ: “الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ”

وعن أنس قال: مروا بجنازة فأثنوا عليها خيرا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : “وجبت” ثم مروا بأخرى فأثنوا عليها شرا. فقال: “وجبت” فقال عمر: ما وجبت؟ فقال: “هذا أثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة وهذا أثنيتم عليه شرا فوجبت له النار أنتم شهداء الله في الأرض” . (متفق عليه) وفي رواية: “المؤمنون شهداء الله في الأرض”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ لوگ جنازہ لےکرگزرے جس کی لوگوں نے اچھی تعریف کی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی،پھر دوسرا جنازہ لےکرگزرے جس کی لوگوں نے برائی کی ۱∞؎حضور نے فرمایا واجب ہوگئی حضرت عمر نے عرض کیاحضور کیا واجب ہوگئی فرمایا یہ جس کی تم نے تعریف کی کہ اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور یہ جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہوگئی تم لوگ زمین میں الله کے گواہ ہو ۲؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ مؤمن زمین میں الله کے گواہ ہیں۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ کہا کہ یہ بڑا منافق تھا،بے دین تھا،بدخلق اورموذی تھا وغیرہ وغیرہ۔لہذا اس جملہ پر نہ تو یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ سارے صحابہ عادل اورجنتی ہیں،رب فرماتاہے:"کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی"پھر یہ میت جہنمی کیسے ہوگئی اور نہ یہ اعتراض ہے کہ مُردوں کو برا کہنا منع ہے،پھر صحابہ نے اس دوسرے کو برا کیوں کہا کیونکہ یہ جنازہ منافق اورفاسق کا تھا۔۲؎لہذا تمہارے منہ سے جس کے لیے جو نکلتا ہے الله کے ہاں وہی ہوتاہے زبان خلق نقّارہ خدا،اس کی تائید اس آیت سے ہے "لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِاس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جسے عام مسلمان قدرتی طور پر ولی الله کہیں وہ واقعی ولی الله ہے،رب تعالٰی اولیاء الله کی علامت بیان فرماتاہے:"لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ"یعنی ان کے لئے دنیا میں بھی بشارتیں ہیں کہ عام مسلمان انہیں جنتی کہتے ہیں اور آخرت میں بھی کہ فرشتے انہیں جنتی کہیں گے،لہذا حضورغوث پاک،خواجہ اجمیری،داتا گنج بخش لاہوری،مجدد الف ثانی یقینًا اولیاء ہیں کہ انہیں مسلمان ولی سمجھتے ہیں،ولایت کے ثبوت کے لیے قرآنی آیت ہی ضروری نہیں۔دوسرے یہ کہ جو کام مسلمان اچھا اور ثواب سمجھیں وہ واقعی اچھا ہے لہذا گیارھویں میلادشریف،عرس بزرگان،ختم خواجگان وغیرہ کار ثواب ہیں کہ انہیں عام مسلمین،اولیاء،صالحین کارثواب جانتے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمانوں کی گواہی سےمومنین صالحین کی گواہی مراد ہے جو قدرتی طور پر منہ سے نکلتی ہے جس میں نفسانی بغض اور کینہ کو دخل نہیں ہوتا ورنہ روافض صحابہ کو خوارج اہلِ بیت کو بعض بےدین علماء و صالحین کو برا کہتے ہیں وہ گواہی اس میں داخل نہیں۔خیال رہے کہ یہاںاَنْتُمْمیں صرف صحابہ سے خطاب نہیں بلکہ تاقیامت سارے نیک مؤمنوں سے جیسے"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ"میں۔۳؎یہ جملہ پہلے جملہ کی شرح ہے کہ وہاںاَنْتُمْسے مراد صرف صحابہ نہ تھے بلکہ سارے مؤمنین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1662