Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1663

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَيُّمَا مُسْلِمٌ شَهِدَ لَهٗ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ” قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: “وَثَلَاثَةٌ” . قُلْنَا وَاثْنَانِ؟ قَالَ: “وَاثْنَانِ” ثُمَّ لم نَسْأَلُهٗ عَنْ الْوَاحِد. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة” قلنا: وثلاثة؟ قال: “وثلاثة” . قلنا واثنان؟ قال: “واثنان” ثم لم نسأله عن الواحد. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس مسلمان کی نیکی کی چار آدمی گواہی دیں گے الله اسے جنت میں داخل کرے گا ہم نے کہا اور تین فرمایا اور تین بھی ہم نے کہا اور دو فرمایا اور دوبھی پھر ہم نے حضور سے ایک کے بارے میں نہ پوچھا ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث بہت امید افزاءہے کہ دو مسلمانوں کا بھی کسی کو اچھاکہنا اس کے جنتی ہونے کی علامت ہے۔رحمت والے نبی کی رحمت دیکھو کہ اس عدد میں شَر کا ذکرنہیں صرف خیر کا ذکر ہے،یعنی دو ایک آدمیوں کے برا کہنے سے جہنمی نہ کہاجائے گا ہاں ان کے اچھا کہنے سے جنتی کہاجائے گا۔مرقات نے فرمایا کہ شریعت میں گواہی کے نصاب دو ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْتو جیسے دو گواہیوں سے مقدمہ ثابت ہوجاتا ہے یونہی دو کی گواہی سےجنتی ہونا ثابت ہوگا۔یہاں شیخ نے فرمایا کہ جوحضورصلی الله علیہ وسلم کے منہ سے نکلتا ہے وہی رب کے ہاں ہوتاہے،صحابہ کی عرض پر حضورصلی الله علیہ وسلم گواہوں کی تعداد میں کمی کرتے گئے تو وہاں بھی کمی ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1663