Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1647

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلیٰ أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لأَهْلهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُوْنَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال علی أعناقهم فإن كانت صالحة قالت: قدموني وإن كانت غير صالحة قالت لأهلها: يا ويلها أين يذهبون بها؟ يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمع الإنسان لصعق ". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب جنازہ رکھاجاتاہے پھر اسے لوگ اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتاہے مجھے لے چلو ۱∞؎اور اگر بد ہوتو اپنے گھر والوں سے کہتا ہے ہائے اسے کہاں لے جاتے ہو اس کی آواز انسان کے سوا ہر چیزسنتی ہے اگر انسان سنے تو بے ہوش ہوجائے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جنازے سے مراد میت ہے اور اس کے رکھے جانے سے مراد گھر سے باہر نکال کر لوگوں کے سامنے قبرستان لے جانے کے لیے رکھا جانا ہے۔ظاہر یہی ہے کہ مردہ بزبانقالیہ گفتگو کرتا ہے کیونکہ اسے نزع میں ہی اپنے آئندہ حال کا پتہ چل جاتا ہے،اب اسے یہاں ٹھہرنا وبال معلوم ہوتاہے اس لیے کہتا ہے جلدی پہنچاؤ۔اس سے معلوم ہوا کہ اس حالت ہی میں جسم میں جان پڑچکی ہوتی ہے اور بعدموت مردہ بولتابھی ہے،سنتا بھی ہے جیساکہباب عذاب قبرمیں گزر چکا کہ مردہ چلنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے۔احمد،طبرانی،ابن ابی دنیا،معروزی،اور ابن مندہ نے ابو سعیدخدری سے روایت کی کہ میت اپنے غسل دینے والے،اٹھانے والے،کفن دینے والے اور قبر میں اتارنے والے سب کو پہنچانتا ہے۔(مرقات)۲؎اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مردے کی یہ گفتگو زبانقالسے آواز کے ساتھ ہی ہوتی ہے جسے جانور فرشتہ کنکر،پتھر سب سنتے ہیں انسان کو اس لیے نہ سنائی گئی کہ اولًا تو اس میں اس آواز کی برداشت کی طاقت نہیں۔دوسرے اس پر ایمان بالغیب لازم ہے اگر وہ آواز سن لے تو ایمان بالغیب نہ رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1647