Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1648

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتّٰى تُوضَعَ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ۱∞؎جو اس کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے حتی کہ رکھ دیا جائے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اولًا میت کے لیے کھڑے ہوجانے کا حکم تھا یا تو میت کی تعظیم کے لیے یا ساتھ والے فرشتوں کی یا موت کی گھبراہٹ کے اظہار کے لیے،لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا اس کی ناسخ حدیثیں آگے آرہی ہیں۔اکثر علماء فرماتے ہیں کہ جو میت کے ساتھ جانا نہ چاہے اسے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔(مرقاۃ)۲؎لوگوں کی گردنوں سے زمین پر تاکہ اگر اس کی امداد کی ضرورت پڑے تو یہ بآسانی امداد کرسکے،یہ حکم اب بھی باقی ہے کہ میت کو کندھوں سے اتارنے سے پہلے بیٹھ جانا مکروہ ہے اور اگر یہ معنی ہیں کہ قبر میں رکھ دیاجائے تو یہ حدیث منسوخ ہے جس کا ناسخ آگے آرہا ہے۔شروع اسلام میں دفن سے پہلے بیٹھنا مکروہ تھا اب جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1648