Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1688

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَی الجَنَازَةِ: " اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا إِلَى الإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَاوَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهٗ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصلاة علی الجنازة: " اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها إلى الإسلام وأنت قبضت روحهاوأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئنا شفعاء فاغفر له . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے نماز جنازہ کے بارے میں راوی الٰہی تو اس کا رب ہے تو نے ہی اسے پیدا کیا تو نے ہی اسے اسلام کی ہدایت دی تو نے ہی اس کی روح قبض کی تو ہی اس کے کھلے چھپے کو جانتا ہے،ہم شفیع آئے ہیں اسے بخش دے ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ روح قبض کرنا ملک الموت کا کام ہے مگر چونکہ وہ سب کچھ رب کے حکم سے کرتے ہیں اس لیےفعل کو رب کی طرف نسبت کیا گیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان کے توسل سے دعاکرنا جائزہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1688