Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1665

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يجمع بَينَ الرجلَيْنِ مِنْ قَتْلٰى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: “أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟” فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ الٰى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهٗ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ: “أَنَا شَهِيدٌ عَلیٰ هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا.رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول: “أيهم أكثر أخذا للقرآن؟” فإذا أشير له الى أحدهما قدمه في اللحد وقال: “أنا شهيد علی هؤلاء يوم القيامة” . وأمر بدفنهم بدمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا.رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم شہدائے احد میں سے ایک کپڑے میں دو کو جمع فرماتے تھے ۱∞؎پھر فرماتے ان میں زیادہ قرآن کسے یادہے جب ایک کی طرف اشارہ کیاجاتا تو اسی کو قبر میں آگے رکھتے اور فرماتے کہ میں ان لوگوں پر قیامت میں گواہ ہوں ۲؎اور ان کو مع ان کے خونوں دفن کا حکم دیا اور ان پر نماز پڑھی نہ ان کو غسل دیا گیا ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ دوشہیدوں کو ایک چادر میں لپیٹتے ان کے اپنے کپڑے ان ہی پر تھے لہذا اس سے لازم یہ نہیں آیا کہ ان کی کھالیں مل گئیں ہوں اور یہ اس لیے کیا گیا تھا کہ اس وقت کپڑے کی بہت تنگی تھی۔۲؎یعنی ان کی عدالت،شہادت،تقویٰ،جہاد کمال ایمانی کا خصوصی گواہ ہوں ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی ساری امت کے خصوصی گواہ ہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًااس حدیث سے معلوم ہوا کہ علم قرآن دنیا اور آخرت کی عزت کا ذریعہ ہے۔۳؎اس پرتمام علماءمتفق ہیں کہ شہید کا نہ خون دھویاجائے نہ اسے غسل دیاجائے مگر اس میں اختلاف ہے کہ اس پر نماز ہوگی یا نہیں؟ہمارے ہاں شہید پر نماز ہے جس کی بیشمار احادیث ہیں،بلکہ خاص شہدائے احد کے متعلق طحاوی وغیرہ میں ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دس دس شہیدوں کو جمع کرکے ان پر نماز پڑھتے تھے مگر حضرت حمزہ کی میت اسی طرح ہر نماز میں شامل تھی یعنی ہر دفعہ نو شہید نئے لائے جاتے تھے دسویں حمزہ ہوتے تھے،یہ حدیث حضرت عبدالله ابن عباس،عبد الله ابن زبیر،ابو مالک غفاری وغیرہم صحابہ سے مروی ہے۔(طحاوی)بعض روایات میں ہے کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے حضرت حمزہ پر ستر بارنماز جنازہ پڑھی۔مشکوٰۃ شریف میں ایک حدیث آئے گی کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے شہدائے احد پر ان کی شہادت کے آٹھ سال بعد اپنی وفات سے قریب بھی نماز جنازہ پڑھی،نیز نماز جنازہ گناہ معاف کرانے کے لیے نہیں ہوتی ورنہ بچے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر نماز جنازہ نہ پڑھی جاتی،بلکہ شرافت انسانی کے اظہار کے لیے ہے جس کا شہیدبھی بدرجہ اولےمستحق ہے۔امام شافعی کے ہاں شہید پر نماز نہیں،ان کی دلیل یہ حدیث ہے مگر ان کا یہ استدلال بہت کمزور ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ یہ حدیث نفی کی ہے اور ہماری پیش کردہ احادیث میں ثبوت نماز ہے لہذا ترجیح ثبوت کو ہوگی۔دوسرے یہ کہ حضرت جابر ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے شہدائے احد کا جنازہ پڑھا لہذا تعارض کی وجہ سے یہ حدیث قابل عمل نہیں۔تیسرے یہ کہ یہاں اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے خاص احد کے دن ان شہداء کی نماز نہ پڑھی کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم اس دن خود زخمی تھے،دانت مبارک شہید ہوچکا تھا،سر مبارک میں خود ٹوٹ کر گڑھ گیا تھا جو بمشکل نکالا گیا۔چوتھے یہ کہ حضرت جابر اس دن سخت پریشان تھے کیونکہ ان کے والد اور ماموں شہید ہوچکے تھے جن کی میتوں کو منتقل کرکے مدینہ پاک لے گئے تھے،اس پریشانی اورمشغولیت کی وجہ سے آپ حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز پر مطلع نہ ہوسکے۔پانچویں یہ کہ حاکم نے روایت صحیح حضرت جابر سے شہدائے احد کی نماز جنازہ اور ہر بار میں حضرت حمزہ کا رکھا رہنا نقل کیا،ان وجوہات کے باعث اس حدیث سے استدلال کمزور ہے۔اس کی پوری تحقیق اس مقام پرلمعات و اشعہ و مرقات میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1665