Main Icon

باب : جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پر نماز پڑھنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1674

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَی المَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة ر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا صليتم علی الميت فأخلصوا له الدعاء” . رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میت پر نماز پڑھ لو تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو ۱∞؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ نماز جنازہ میں خالص دعاء ہی کرو تلاوت قرآن نہ کرو حمدوثناء درود و دعا کے مقدمات میں سے ہے۔اس صورت میں یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ نماز جنازہ میں تلاوت قرآن ناجائز ہے۔دوسرے یہ کہ جب تم نماز جنازہ پڑھ چکو تو میت کے لیے خلوص دل سے دعا مانگو،اس صورت میں دعا بعد نماز جنازہ کا ثبوت ہوگا۔خیال رہے کہ دعا بعد نمازجنازہ سنتِ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی ہے اور سنت صحابی بھی۔چنانچہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اوربعد میں دعا مانگی،حضرت عبد الله ابن سلام ایک جنازہ پر پہنچے نماز ہوچکی تھی تو آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ نماز تو پڑھ چکے میرے ساتھ مل کر دعا تو مانگ لو۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاء الحق"حصہ اول میں دیکھو۔جن فقہاء نے اس دعا سے منع کیا اس کی صورت یہ ہے کہ سلام کے بعد یونہی کھڑے کھڑے دعا مانگی جائے جس سے آنے والےکو نماز کا دھوکا ہو یا بہت لمبی دعائیں مانگی جائیں جس سے بلاوجہ دفن میں بہت دیر ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1674