Main Icon

باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2875

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهٗ مَالٌ فَمَالُهٗ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَى البُخَارِيُّ الْمَعْنَى الأَوَّلَ وَحْدَهٗ

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ابتاع نخلا بعد أن تؤبر فثمرتها للبائع إلا أن يشترط المبتاع ومن ابتاع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع» . رواه مسلم وروى البخاري المعنى الأول وحده

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص پیوند لگانے کے بعد درخت کھجور خریدے ۱؎تو اس کے پھل بیچنے والے کے ہوں گے ہاں مگر خریدار شرط لگائے ۲؎اور جو کوئی ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو۳؎تو اس کا مال بیچنے والے کا ہوگا ہاں مگر یہ کہ خریدار شرط لگائے ۴؎(مسلم)بخاری نے صرف پہلی صورت بیان کی۔

شرح حدیث

۱∞؎کھجور کی تابیر کے معنے ہمباب الاعتصاممیں عرض کرچکے ہیں کہ نر کھجور کی شاخ مادہ کھجور میں لگانا تاکہ پھل اچھے اور زیادہ آئیں،یہاں مراد ہے تابیر کے بعد پھل لگ جانا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے،اگر تابیر ہوچکی ہے مگر ابھی پھل نہیں لگے تو یہ حکم بھی نہیں۔غرضکہ یہاں پھل والا درخت مراد ہےجس کے پھل پختہ یا گدر ہوچکے ہوں۔
۲
؎امام مالک و شافعی رحمھم اللّٰه کے ہاں تابیر والے پھل دار درخت کے پھل خریدار کے ہوں گے اور اگر تاجر شرط کرلے تو اس کے ہوں گے،ہمارے ہاں بہرحال پھل بائع کے ہیں،ہمارے ہاں تابیر سے مراد پھل دار ہوجانا ہے اگر درخت پھلدار نہیں تو خواہ تابیر ہوچکی ہو،حکم بھی یہ نہیں،ابن ابی لیلی کے ہاں پھل بہرحال خریدار کے ہیں کہ درخت کے تابع ہیں۔
۳
؎یعنی غلام ماذون تھا جسے تجارت کی اجازت مولٰی نے دے رکھی تھی اس وجہ سے اس کے پاس مال جمع ہوگیا تھا۔اب اسے فروخت کیا گیا تو مال چونکہ مولٰی کا تھا اسی کا رہے گا،یہاں مال کی نسبت غلام کی طرف قبضہ کی نسبت ہے نہ کہ ملکیت کی،وہ مال تھا مولٰی کا مگر قبضہ میں غلام کے تھا۔
۴
؎یعنی اگر خریدار کہے کہ میں وہ غلام مع اس کے مال کے خریدتا ہوں تب تو مال خریدار کا ورنہ بائع کا،امام اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ہاں فروخت شدہ غلام کے جسم کے کپڑے بھی بائع کے ہوں گے حتی کہ خریدنے کے بعد خریدار اسے اپنا تہبندپہنائے بائع کا تہبند اتار دے۔ (مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ جانور خریدا تو اس کی جھول،زنجیر اور دوسرا جسم کا سامان بائع کا ہوگا اگر خریدار شرط لگائے تو اس کا ہوگا۔ خیال رہے کہ اگر غلام کے پاس چاندی کے روپے تھے تو اس کے مع روپوں کے خریدنے کے وہ ہی احکام ہوں گے جو بیع صرف کے ہوتے ہیں یعنی اگر خریدار چاندی سے خریدے تو اس کے روپوں سے زائد روپے دے تاکہ اصل روپیہ روپے کے عوض ہوجائے اور زیادتی غلام کے عوض کہ یہ بیع صرف غلام کی نہیں بلکہ چاندی اور غلام کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2875