- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2877
باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2877
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ عَلٰى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وُقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عُدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ إِلٰى أَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِيهَا وَأَعْتِقِيهَا» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا أبعد فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللّٰهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللّٰهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عائشة قالت: جاءت بريرة فقالت: إني كاتبت على تسع أواق في كل عام وقية فأعينيني فقالت عائشة: إن أحب أهلك أن أعدها لهم عدة واحدة وأعتقك فعلت ويكون ولاؤك لي فذهبت إلى أهلها فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خذيها وأعتقيها» ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «أما أبعد فما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط فقضاء الله أحق وشرط الله أوثق وإنما الولاء لمن أعتق»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ آئیں بولیں کہ میں نو اوقیہ پر مکاتبہ ہوگئی ہوں ہر سال میں ایک اوقیہ ۱؎آپ میری امداد فرمائیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا اگر تمہارے مولٰی یہ پسند کریں کہ میں انہیں سارا روپیہ ایک دم گن دوں اور تمہیں آزادکروں اور تمہاری ولا میرے لیے رہے ۲؎وہ اپنے مولاؤں کے پاس گئیں انہوں نے اس کا انکار کیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۳؎اس پر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تم انہیں لے لو اور آزاد کردو۴؎پھر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے لوگوں کے مجمع میں قیام فرمایا اللّٰه کی حمدوثناء کی ۵؎پھر فرمایا بعد حمد وثناء کے لوگوں کا کیا حال ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللّٰه کی کتاب میں نہیں ہیں ۶؎جو شرط بھی ایسی ہو جو اللّٰه کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے،اگرچہ سو شرطیں ہوں ۷؎لہذا اللّٰه کا فیصلہ لائق عمل ہے اور اللّٰه کی شرط بہت مضبوط ہے ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت بریرہ بروزن کریمہ مشہور صحابیہ ہیں،پہلے ایک یہودی کی لونڈی تھیں،پھر حضرت عائشہ صدیقہ کی لونڈی بنیں،آپ کی ملک پر آزاد ہوئیں کہ یہودی نے آپ کو مکاتبہ کیا تھا،پھر حضرت عائشہ صدیقہ نے خرید لیا۔(اشعہ)اوقیہ کی تحقیق پہلے ہو چکی ہے۔مکاتب وہ غلام ہے جسے مولٰی کہہ دے کہ اتنی رقم مجھے دے تو آزاد ہے۔
۲؎اس طرح کہ تو اپنے کو اداء بدل کتابۃ سے معذور کردے جس سے کتابۃ ختم ہوجائے پھر میں تجھے نو اوقیہ کے عوض خرید کر آزاد کردوں تو تم میری آزاد کردہ لونڈی ہو اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو،ورنہ مکاتب کی بیع درست نہیں اور جو مکاتب کی امداد کرے کہ اس کا بدل کتابۃ ادا کر دے وہ اس کا مالک نہیں ہوجاتا نہ ولاء اسے ملتی ہے۔
۳؎یعنی بریرہ کے مولٰی اس فسخ کتابۃ پر تو راضی ہوگئے فروخت کردینے پر بھی راضی ہو گئے مگر فروخت میں شرط یہ لگاتے تھے کہ ولاء یعنی حق میراث انہیں ملے یہ شرط بھی فاسد تھی اس سے بیع بھی فاسد ہوتی۔
۴؎اس حدیث کی بنا پر امام مالک اور احمد ابن حنبل مکاتب کی بیع جائز مانتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور نے بریرہ مکاتبہ کی بیع درست رکھی مگر ہمارے امام اعظم و شافعی فرماتے ہیں کہ مکاتب کی رضا سے اس کی فروخت کتابۃ کا فسخ ہے،گویا مکاتب اپنی کتابۃ ختم کررہا ہے اور اپنے کو فروخت کرارہا ہے یہاں یہ ہی ہوا،بعض آئمہ نے اس حدیث کی وجہ سے بشرط عتق بیع کو جائز رکھا کہ یہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا نے آزادی کی شرط پر خریدا،ہمارے ہاں ایسی بیع فاسد ہے کہ یہ بیع بالشرط ہے،یہاں بائع یا حضرت بریرہ نے یہ شرط نہ لگائی تھی بلکہ خود ام المؤمنین نے آزادی کی پیشکش کی تھی،شرط اور پیش کش میں بڑا فرق ہے۔
۵؎وعظ سے پہلے حمد الٰہی سنت رسول اللّٰه ہے صلی اللّٰہ علیہ و سلم اور حمد و صلوۃ دونوں پڑھنا سنت صحابہ ہے،دونوں ہی پڑھنا چاہئیں۔
۶؎کتاب اللّٰهسے مراد یا لوح محفوظ ہے یا سنت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یا دین اسلام کیونکہ یہ قاعدہالولاء لمن اعتقولاء آزاد کرنے والے کی ہے،قرآن شریف میں موجود نہیں،یالیسکے معنی ہیں کہ یہ شرط قرآنی قاعدہ کے موافق نہیں،اس صورت میںکتاب اللّٰهسے مراد قرآن شریف بھی ہوسکتا ہے۔(مرقات)
۷؎اس حدیث پر بہت ہی اعتراضات ہیں اس لیے بعض محدثین نے اس ساری حدیث ہی کا انکار کردیا ہے،بعض روایات میں یہ بھی ہے کہاشترطی لہماے عائشہ ان کی شرط قبول کرلو اور خرید لو،ولاء تمہارے لیے ہی ہوگی۔اس حدیث پر حسب ذیل اعتراض پڑ جاتے ہیں:(۱)مکاتب غلام کی بیع جو شرعًا ناجائز ہے(۲)بائع کی شرط کو قبول کرلینا،یہ بیع بالشرط ہوئی یہ بھی فاسد ہے(۳)بشرط عتق بیع یہ بھی فاسد ہے(۴)بائع کو دھوکا دینا کہ اس کی شرط ولاء منظور کرلینا حالانکہ ولاء اسے نہ ملے بلکہ خریدار کو ملے،کیسے ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان چیزوں کی اجازت دیں۔بعض شارحین نے اس حدیث کو درست مانا مگرو اشتَرِطیْ لَهُمْلام کوعلیکے معنی میں لیا اور معنی یہ کیے کہ ان کے خلاف شرط لگالو کہ ولاء اس کے ہوگی جیسےوَمَنْ اَسَاءَ فَلَھَامیں لامعلیکے معنی میں ہے مگر صحیح بات وہ ہے جو یہاں مرقات نے فرمائی کہ چونکہ عرب شریف میں اس قسم کی بیع بالشرط کا عام رواج تھا،اس رواج کو توڑنے کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ کو اس بیع کی خصوصی اجازت دی تاکہ آئندہ اس بیع کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے اب یہ بیع جائز نہیں جیسے حضور انورنے حجۃ الوداع میں حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرادیا تاکہ یہ عقیدہ ختم ہوجائے کہ زمانہ حج میں عمرہ حرام ہے ایسے ہی یہاں ہوا ورنہ یہ حدیث ظاہری معنی پر کسی مذہب کے موافق نہیں اور دیگر تمام احادیث کے خلاف ہے۔(مرقات)
۸؎اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور کا فیصلہ رب تعالٰی کا فیصلہ ہے،دیکھو یہ قانون کہالولاء لمن اعتقولاء آزاد کرنے والے کو ملتی ہے۔حضور کا قانون ہے مگر فرمایا گیاقضاء اللّٰهکیوں نہ ہو،رب فرماتاہے:"مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ"۔دوسرے یہ کہ اگر کفار مسلمانوں سے تجارت کریں تو انہیں اسلامی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی،دیکھو یہاں بائع یہودی ہے مگر چونکہ خریدار عائشہ صدیقہ ہیں اس لیے اس پر سارے اسلامی قانون جاری ہوگئے،لہذا کافر مسلمان کے ہاتھ سور یا شراب نہیں بیچ سکتا آپس میں کفار اس قسم کی بیع کرسکتے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2877