Main Icon

باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2877

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ عَلٰى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وُقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عُدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ إِلٰى أَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِيهَا وَأَعْتِقِيهَا» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا أبعد فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللّٰهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللّٰهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: جاءت بريرة فقالت: إني كاتبت على تسع أواق في كل عام وقية فأعينيني فقالت عائشة: إن أحب أهلك أن أعدها لهم عدة واحدة وأعتقك فعلت ويكون ولاؤك لي فذهبت إلى أهلها فأبوا إلا أن يكون الولاء لهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خذيها وأعتقيها» ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: «أما أبعد فما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط فقضاء الله أحق وشرط الله أوثق وإنما الولاء لمن أعتق»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ آئیں بولیں کہ میں نو اوقیہ پر مکاتبہ ہوگئی ہوں ہر سال میں ایک اوقیہ ۱؎آپ میری امداد فرمائیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا اگر تمہارے مولٰی یہ پسند کریں کہ میں انہیں سارا روپیہ ایک دم گن دوں اور تمہیں آزادکروں اور تمہاری ولا میرے لیے رہے ۲؎وہ اپنے مولاؤں کے پاس گئیں انہوں نے اس کا انکار کیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۳؎اس پر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تم انہیں لے لو اور آزاد کردو۴؎پھر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے لوگوں کے مجمع میں قیام فرمایا اللّٰه کی حمدوثناء کی ۵؎پھر فرمایا بعد حمد وثناء کے لوگوں کا کیا حال ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللّٰه کی کتاب میں نہیں ہیں ۶؎جو شرط بھی ایسی ہو جو اللّٰه کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے،اگرچہ سو شرطیں ہوں ۷؎لہذا اللّٰه کا فیصلہ لائق عمل ہے اور اللّٰه کی شرط بہت مضبوط ہے ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت بریرہ بروزن کریمہ مشہور صحابیہ ہیں،پہلے ایک یہودی کی لونڈی تھیں،پھر حضرت عائشہ صدیقہ کی لونڈی بنیں،آپ کی ملک پر آزاد ہوئیں کہ یہودی نے آپ کو مکاتبہ کیا تھا،پھر حضرت عائشہ صدیقہ نے خرید لیا۔(اشعہ)اوقیہ کی تحقیق پہلے ہو چکی ہے۔مکاتب وہ غلام ہے جسے مولٰی کہہ دے کہ اتنی رقم مجھے دے تو آزاد ہے۔
۲
؎اس طرح کہ تو اپنے کو اداء بدل کتابۃ سے معذور کردے جس سے کتابۃ ختم ہوجائے پھر میں تجھے نو اوقیہ کے عوض خرید کر آزاد کردوں تو تم میری آزاد کردہ لونڈی ہو اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو،ورنہ مکاتب کی بیع درست نہیں اور جو مکاتب کی امداد کرے کہ اس کا بدل کتابۃ ادا کر دے وہ اس کا مالک نہیں ہوجاتا نہ ولاء اسے ملتی ہے۔
۳
؎یعنی بریرہ کے مولٰی اس فسخ کتابۃ پر تو راضی ہوگئے فروخت کردینے پر بھی راضی ہو گئے مگر فروخت میں شرط یہ لگاتے تھے کہ ولاء یعنی حق میراث انہیں ملے یہ شرط بھی فاسد تھی اس سے بیع بھی فاسد ہوتی۔
۴
؎اس حدیث کی بنا پر امام مالک اور احمد ابن حنبل مکاتب کی بیع جائز مانتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور نے بریرہ مکاتبہ کی بیع درست رکھی مگر ہمارے امام اعظم و شافعی فرماتے ہیں کہ مکاتب کی رضا سے اس کی فروخت کتابۃ کا فسخ ہے،گویا مکاتب اپنی کتابۃ ختم کررہا ہے اور اپنے کو فروخت کرارہا ہے یہاں یہ ہی ہوا،بعض آئمہ نے اس حدیث کی وجہ سے بشرط عتق بیع کو جائز رکھا کہ یہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا نے آزادی کی شرط پر خریدا،ہمارے ہاں ایسی بیع فاسد ہے کہ یہ بیع بالشرط ہے،یہاں بائع یا حضرت بریرہ نے یہ شرط نہ لگائی تھی بلکہ خود ام المؤمنین نے آزادی کی پیشکش کی تھی،شرط اور پیش کش میں بڑا فرق ہے۔
۵
؎وعظ سے پہلے حمد الٰہی سنت رسول اللّٰه ہے صلی اللّٰہ علیہ و سلم اور حمد و صلوۃ دونوں پڑھنا سنت صحابہ ہے،دونوں ہی پڑھنا چاہئیں۔
۶
؎کتاب اللّٰهسے مراد یا لوح محفوظ ہے یا سنت رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یا دین اسلام کیونکہ یہ قاعدہالولاء لمن اعتقولاء آزاد کرنے والے کی ہے،قرآن شریف میں موجود نہیں،یالیسکے معنی ہیں کہ یہ شرط قرآنی قاعدہ کے موافق نہیں،اس صورت میںکتاب اللّٰهسے مراد قرآن شریف بھی ہوسکتا ہے۔(مرقات)
۷
؎اس حدیث پر بہت ہی اعتراضات ہیں اس لیے بعض محدثین نے اس ساری حدیث ہی کا انکار کردیا ہے،بعض روایات میں یہ بھی ہے کہاشترطی لہماے عائشہ ان کی شرط قبول کرلو اور خرید لو،ولاء تمہارے لیے ہی ہوگی۔اس حدیث پر حسب ذیل اعتراض پڑ جاتے ہیں:(۱)مکاتب غلام کی بیع جو شرعًا ناجائز ہے(۲)بائع کی شرط کو قبول کرلینا،یہ بیع بالشرط ہوئی یہ بھی فاسد ہے(۳)بشرط عتق بیع یہ بھی فاسد ہے(۴)بائع کو دھوکا دینا کہ اس کی شرط ولاء منظور کرلینا حالانکہ ولاء اسے نہ ملے بلکہ خریدار کو ملے،کیسے ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان چیزوں کی اجازت دیں۔بعض شارحین نے اس حدیث کو درست مانا مگرو اشتَرِطیْ لَهُمْلام کوعلیکے معنی میں لیا اور معنی یہ کیے کہ ان کے خلاف شرط لگالو کہ ولاء اس کے ہوگی جیسےوَمَنْ اَسَاءَ فَلَھَامیں لامعلیکے معنی میں ہے مگر صحیح بات وہ ہے جو یہاں مرقات نے فرمائی کہ چونکہ عرب شریف میں اس قسم کی بیع بالشرط کا عام رواج تھا،اس رواج کو توڑنے کے لیے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ کو اس بیع کی خصوصی اجازت دی تاکہ آئندہ اس بیع کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے اب یہ بیع جائز نہیں جیسے حضور انورنے حجۃ الوداع میں حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرادیا تاکہ یہ عقیدہ ختم ہوجائے کہ زمانہ حج میں عمرہ حرام ہے ایسے ہی یہاں ہوا ورنہ یہ حدیث ظاہری معنی پر کسی مذہب کے موافق نہیں اور دیگر تمام احادیث کے خلاف ہے۔(مرقات)
۸
؎اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور کا فیصلہ رب تعالٰی کا فیصلہ ہے،دیکھو یہ قانون کہالولاء لمن اعتقولاء آزاد کرنے والے کو ملتی ہے۔حضور کا قانون ہے مگر فرمایا گیاقضاء اللّٰهکیوں نہ ہو،رب فرماتاہے:"مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ"۔دوسرے یہ کہ اگر کفار مسلمانوں سے تجارت کریں تو انہیں اسلامی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی،دیکھو یہاں بائع یہودی ہے مگر چونکہ خریدار عائشہ صدیقہ ہیں اس لیے اس پر سارے اسلامی قانون جاری ہوگئے،لہذا کافر مسلمان کے ہاتھ سور یا شراب نہیں بیچ سکتا آپس میں کفار اس قسم کی بیع کرسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2877