Main Icon

باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2876

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّهٗ كَانَ يَسِيرُ عَلٰى جَمَلٍ لَهٗ قَدْ أَعْيَافَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهٖ فَضَرَبَهٗ فَسَارَ سَيْرًا لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهٗ ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِيهِ بِاُوْقِيَّةٍ» قَالَ: فَبِعْتُهٗ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهٗ إِلٰى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهٗ بِالجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهٗ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهٗ وَرَدَّهٗ عَلَيَّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ أَنَّهٗ قَالَ لِبِلَالٍ: «اقْضِهٖ وَزِدْهُ» فَأَعْطَاهُ وَزَادَهٗ قِيرَاطًا

وعن جابر: أنه كان يسير على جمل له قد أعيافمر النبي صلى الله عليه وسلم به فضربه فسار سيرا ليس يسير مثله ثم قال: «بعنيه باوقية» قال: فبعته فاستثنيت حملانه إلى أهلي فلما قدمت المدينة أتيته بالجمل ونقدني ثمنه وفي رواية فأعطاني ثمنه ورده علي. (متفق عليه). وفي رواية للبخاري أنه قال لبلال: «اقضه وزده» فأعطاه وزاده قيراطا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ آپ ایک اونٹ پر سفرکررہے تھے جو تھک گیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم گزرے تو اسے مارا تو وہ اونٹ ایسی رفتار سے چلنے لگا کہ ایسا کبھی نہ چلتا تھا ۱؎پھر حضور نے فرمایا اسے میرے ہاتھ ایک اوقیہ میں بیچ دو ۲؎میں نے بیچ دیا مگر اپنے گھر تک اس کی سواری کی شرط لگائی ۳؎پھر جب میں مدینہ آیا تو حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لایا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت کھری کردی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی قیمت عطا فرمائی اور اونٹ بھی واپس دے دیا ۴؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی ایک روایت ہے کہ آپ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ انہیں قیمت ادا کردو کچھ زیادہ بھی دے دو تو انہوں نے ایک قیراط زیادہ دیا ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حضور انور کا معجزہ ہے۔معلوم ہوا کہ ان کا ہاتھ بے زوروں کا زور ہے،بے سہاروں کا سہارا، اب بھی جس کمزور پر حضور نگاہ کرم فرما دیں وہ طاقتور ہوجائے۔شعر
تو مرا دل دہ و دلیری بیں روبہ خویش خوان وشیری بیں (اشعہ)
یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے تم دل بخشو پھر میری بہادری دیکھو،مجھے اپنی بلی بنالو پھر میری شیری دیکھو۔
۲
؎اُوقیہالف کے پیش یا فتح سے،چالیس درہم کا ہوتا ہے مگر وقیہ بغیر الف کے کبھی اوقیہ کے ہم معنی ہوتا ہے اور کبھی سات مثقال کا۔ اس کی جمعوقایاہے جیسےخطیئہکیخطایا،اوراوقیہکی جمعاواقیہے جیسےاعجوبہکی جمعاعاجیب۔اس سے معلوم ہوا کہ مال والے کو اس کا مال بیچنے کی رغبت دینا جائز ہے۔(مرقات)
۳
؎اس حدیث کی بنا پر امام احمد نے جانور کی بیع بالشرط جائز رکھی کہ بائع اس پر اپنے لیے سوار ہونے کی شرط لگاسکتا ہے،امام مالک کے ہاں تھوڑے فاصلہ تک سواری کی شرط لگانا جائز ہے کیونکہ اس موقعہ پر مدینہ طیبہ قریب تھا لیکن امام اعظم و شافعی کے ہاں یہ شرط مطلقًا ناجائز ہےکیونکہ دوسری احادیث میں بیع بالشرط سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔اس حدیث کے متعلق ان دو بزرگوں نے چند باتیں فرمائیں:ایک یہ کہ یہ شرط داخل بیع نہ تھی بلکہ بعد بیع عاریۃً وہ اونٹ لیا گیا جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔دوسرے یہ کہ یہ شرط حضرت جابر نے پیش نہ کی بلکہ حضور انور نے بطور رعایت عطا فرمائی جیسے آج کل بعض تاجر کمیشن یا انعامی بونڈ پر چیزیں بیچتے ہیں کہ یہ شرطیں خود ا پنی طرف سے لگادیتے ہیں یا پوسٹ آفس(Post Office)کا محکمہ خطوط لفافے ٹکٹ اس شرط پر بیچتے ہیں کہ ہم مال منزل پر پہنچادیں گے۔تیسرے یہ کہ یہ صورۃً بیع تھی،حقیقتًا نہ تھی جیساکہ آگے رہا ہے کہ حضور انور نے حضرت جابر کو رقم بھی عطا فرمادی اور اونٹ بھی۔(لمعات و مرقات)
۴
؎اس جملہ نے اس تجارت کی نوعیت بتلادی کہ لفظ بیع شراء کے تھے مگر حقیقت عطا کی تھی۔
۵
؎قیراط آدھے دانق کو کہتے ہیں دانق تہائی درہم ہے لہذا قیراط درہم کا چھٹا حصہ ہوا،یہ قیراط حضرت جابر کو قیمت سے الگ دیا گیا تھا جسے حضرت جابر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے اور خرچ کرتے رہتے تھے حتی کہ یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں واقعہ حرہ کے موقعہ پر جب یزیدی فوج نے حضرت جابر کا مال لوٹا تو یہ قیراط بھی چھین لیا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ادائے قرض و ادائے حقوق کا وکیل بنانا بھی جائز ہے اور حق سے کچھ زیادہ دینا بھی جائز،یہ زیادتی سود نہ تھی سود کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2876