Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2696

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ: أَنَّهٗ أَهْدٰى لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَاٰى مَا فِي وَجْهِهٖ قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهٗ عَلَيْكَ إِلَّا أنَّا حُرُمٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن الصعب بن جثامة: أنه أهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم حمارا وحشيا وهو بالأبواء أو بودان فرد عليه فلما راى ما في وجهه قال: «إنا لم نرده عليك إلا أنا حرم»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صعب ابن جثامہ سے ۱؎کہ انہوں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں گورخرپیش کیا ۲؎جب کہ حضور انور مقام ابواء یا ودّان میں تھے ۳؎تو آپ نے وہ واپس فرمادیا پھر جب حضور نے ان کے چہرے کی حالت دیکھی تو فرمایا کہ ہم نے صرف اس لیے واپس کیا کہ ہم محرم ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،حضرت ابن عباس آپ سے احادیث لیتے ہیں،خلافت صدیقی میں وفات ہوئی۔(اشعہ،اکمال)
۲
؎بعض روایات میں ہے کہ زندہ جانور پیش کیا تھا اور بعض میں ہے کہ ذبح کرکے اس کا کوئی عضوپاؤں سرین وغیرہ، ہوسکتا ہے کہ پہلے زندہ گورخر پیش کیا ہو بعد میں ذبح کرکے اس کا کوئی عضو لہذا احادیث میں تعارض نہیں،حمار وحشی کا فارسی میں نام گورخر ہے اردو میں بھی یہی ہے۔
۳
؎ابواء مدینہ منورہ سے دس میل فاصلہ پر مکہ معظمہ کے شرقی قدیمی راستہ پر ہے اور ودّان آٹھ میل فاصلہ پر،ابواء کے مقام میں حضرت آمنہ خاتون رضی اللّٰہ عنہا کا مزار مقدس ہے۔اللّٰه تعالٰی کبھی مجھے وہاں کی حاضری نصیب کرے تو ان کی تربت اطہر کی مٹی کا سرمہ لگاؤں، حضرت صعب مقام ابواء کے رہنے والے تھے۔
۴
؎یعنی جب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کا شکار واپس کیا تو انہیں رنج ہوا جس کا اثر ان کے چہرے پرمحسوس ہوا تب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کی تسلی اس ارشاد عالی سے فرمادی،اگر زندہ شکار کو واپس فرمایا ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ محرم کو زندہ شکار نہ پکڑنا درست ہے نہ پکڑا ہوا رکھنا یاذبح کرنا درست ہے اور اگر اس کا گوشت واپس فرمایا ہے تو اس کی وجہ شوافع کے ہاں تو یہ ہے کہ حضرت صعب نے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے شکار کیا تھا،احناف کے ہاں اس لیے رد فرمایا کہ اس شکار میں کسی محرم نے کوئی مدد کی تھی اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اس کا پتہ تھا،یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب ابواء پہنچے تو حضرت صعب نے حضور کی میزبانی اس طرح کی جس کا نتیجہ یہ ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2696