Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2706

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كنَّا مَعَ طَلْحَةَ ابْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهٗ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهٗ قَالَ: فَأَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عبد الرحمن بن عثمان التيمي قال: كنا مع طلحة ابن عبيد الله ونحن حرم فأهدي له طير وطلحة راقد فمنا من أكل ومنا من تورع فلما استيقظ طلحة وافق من أكله قال: فأكلناه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عثمان تیمی سے ۱؎فرماتے ہیں ہم طلحہ ابن عبید اللّٰه کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے تھے تو ان کے لیے پرندے لائے گئے اور حضرت طلحہ سو رہے تھے تو ہم میں سے بعض نے وہ کھالیئے اور بعض نے احتیاط برتی ۲؎پھر جب طلحہ جاگے تو آپ نے کھانے والوں کی موافقت کی کہا کہ ہم نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ پرندے کھائے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عبدالرحمن ابن عثمان ابن عبید اللّٰه صحابی ہیں،حضرت طلحہ ابن عبید اللّٰه کے بھتیجے ہیں،بیعت الرضوان کے بعد ایمان لائے،حضرت عبد اللّٰه ابن زبیر کے ساتھ شہید کیے گئے۔(اشعہ)
۲
؎یعنی چڑیوں کا بھنا ہوا گوشت لایا تو گیا تھا حضرت طلحہ کے لیے مگر وہ سورہے تھے ان کے بعض ساتھیوں نے یہ سمجھ کر کہ چونکہ انہیں حلال نے شکار کیا ہے نہ کہ محرم نے لہذا ہمارے لیے ان کا کھانا درست ہے اور یہ بھی خیال کیا کہ حضرت طلحہ ہمارے کھالینے پر ناراض نہ ہوں گے کھائے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب یہ چڑیاں حضرت طلحہ کے لیے لائی گئیں تھیں تو دوسروں نے کیوں کھائیں کیونکہ یہ کھانے والے ان کے بے تکلف دوست تھے۔
۳
؎غالبًافاکلناکیفتعلیلیہ ہے یعنی آپ نے فرمایا کہ یہ گوشت ہمارے لیے حلال ہے کیونکہ ہم نے اس قسم کے ہدایا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ کھائے ہیں۔اس سے بھی مذہب حنفی ثابت ہوتا ہے کہ جس شکار میں محرم نے مدد نہ دی ہو محرموں کو اس کا کھانا حلال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2706