Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2697

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهٗ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهٖ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتّٰى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهٗ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهٗ فَأَبَوْا فَتَنَاوَلَهٗ فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهٗ ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ. قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهٗ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم فَأَكَلَهَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهٗ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا؟ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا»

وعن أبي قتادة أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فتخلف مع بعض أصحابه وهم محرمون وهو غير محرم فرأوا حمارا وحشيا قبل أن يراه فلما رأوه تركوه حتى رآه أبو قتادة فركب فرسا له فسألهم أن يناولوه سوطه فأبوا فتناوله فحمل عليه فعقره ثم أكل فأكلوا فندموا فلما أدركوا رسول الله صلى الله عليه وسلم سألوه. قال: «هل معكم منه شيء؟» قالوا: معنا رجله فأخذها النبي صلى الله عليه وسلم فأكلها (متفق عليه) وفي رواية لهما: فلما أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أمنكم أحد أمره أن يحمل عليها؟ أو أشار إليها؟» قالوا: لا قال: «فكلوا ما بقي من لحمها»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۱؎تو اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے وہ ساتھی تو محرم تھے یہ محرم نہ تھے انہوں نے حضرت ابوقتادہ کی نظر پڑنے سے پہلے ایک گورخر دیکھا، دیکھا تو چھوڑ دیا۲؎حتی کہ اسے ابو قتادہ نے دیکھ لیا تو آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا کوڑا اٹھا دیں انہوں نے انکار کیا ۳؎آپ نے خود اٹھا لیا شکار پر حملہ کیا اس کے پاؤں کاٹ دیئے پھر ابوقتادہ نے کھایا اور ساتھیوں نے بھی پھر اس پر نادم ہوئے ۴؎جب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ملے تو آپ سے مسئلہ پوچھا حضور نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا کچھ ٹکڑا ہے بولے ہمارے ساتھ اس کا پاؤں ہے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وہ پاؤں لیا اورکھایا ۵؎(مسلم،بخاری)ان دونوں کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب وہ لوگ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے انہیں حملہ کرنے کو کہا تھا، اس طرف اشارہ کیا تھا بولے نہیں فرمایا تو بقیہ گوشت بھی کھالو ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ ۶ھ صلح حدیبیہ کا ہے،چونکہ تمام حضرات عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے اس لیے انہوں نے احرام باندھ لیا تھا اور حضرت ابوقتادہ مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے کچھ دور ساتھ ساتھ گئے تھے اس لیے آپ نے احرام نہ باندھا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ابوقتادہ بغیر احرام میقات سے آگے کیوں بڑھ گئے،اہل مدینہ کا میقات تو ذوالحلیفہ ہے۔
۲
؎ترکوہمیںہٗضمیر یا تو ابوقتادہ کی طرف ہے یا شکار کی طرف یعنی محرم صحابہ نے حضرت ابوقتادہ کو شکار کی رہبری سے چھوڑ دیا، انہیں بتایا نہیں یا اس شکار کو چھوڑ دیا کہ نہ اس کی طرف اشارہ کیا نہ حملہ۔
۳
؎بعض روایات میں بجائےسَوْطَہٗکےرُمُحَہٗیعنی اپنا نیزہ بھالا مانگا،ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مانگے ہوں یعنی جلدی میں بغیر کوڑا و نیزہ گھوڑے پر سوار ہوگئے تھے،پھر خیال آیا تو مانگا۔محرم صحابہ نے اٹھاکر دینے سے اس لیے انکار کیا کہ یہ شکار پر مدد ہے جو محرم کو حرام ہے۔
۴
؎یعنی محرم صحابہ شکار کا گوشت کھانے پر نادم ہوئے،ان کا خیال تھا کہ محرم کو شکار کا گوشت کھانا مطلقًا حرام ہے کسی طرح حلال نہیں، پہلے خیال نہ آیا کھالیا پھر خیال آیا تو پچھتائے۔
۵
؎حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ عملی جواب دیا کہ اس کا کھانا حلال ہے کیونکہ اس شکار میں کسی محرم کی مدد اور تعاون شامل نہیں۔جواب قولی بھی ہوتا ہے عملی بھی مگر عملی جواب قوی تر ہے۔(مرقات)
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر غیرمحرم شکارکرے اورمحرم کسی قسم کی اس میں مدد نہ دے تو محرم اس کا گوشت کھاسکتا ہے خواہ اس نے صرف اپنے لیے شکار کیا ہو یا محرم کے لیے بھی کیونکہ حضرت ابوقتادہ نے اتنا بڑا گورخر صرف اپنے لیے تو مارا نہ تھا سب کو کھلانے کی نیت تھی لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل قوی ہے۔دلالۃ و اشارۃمیں فرق یہ ہے کہ دلالت یعنی رہبری تو زبان سے بتانا ہے اور اشارہ ہاتھ سے،بعض نے فرمایا کہ غائب چیزکا بتانا دلالت ہے اور حاضر چیزکو دکھانا اشارہ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2697