Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2701

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الجراد من صيد البحر . رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ٹڈی دریائی شکار سے ہے ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎بعض علماء نے اس حدیث سے ثابت کیا،ٹڈی کا شکار محرم کرسکتا ہے کہ یہ دریائی شکار ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ"۔ہمارے امام اعظم کے ہاں ٹڈی خشکی کا شکار ہے کہ یہ خشکی میں ہی انڈے بچے دیتی ہے اور خشکی ہی میں جنتی پلتی ہے اور خشکی کے ہی پتے وغیرہ کھاتی ہے۔اس حدیث کے متعلق احناف کہتے ہیں کہ ٹڈی دو قسم کی ہے:بحری و بری۔بحری ٹڈی مچھلی کے ناک سے کیڑوں کی طرح نکلتی ہے،یہاں اسی کا ذکر ہے اور اگر یہ ٹڈی معروفہ ہی مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ یہ بھی دریائی شکار یعنی مچھلی کی طرح بغیر ذبح حلال ہے۔مؤطا امام مالک میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ"تمرۃ خیر من جرادۃ"یعنی اگر محرم ٹڈی کا شکار کرے تو ایک کھجور خیرات کرے،حضرت کعب نے فرمایا تھا کہ ٹڈی کے شکار پر محرم ایک درہم خیرات کرے،اس کے جواب میں حضرت عمر نے یہ فرمایا اگر اس کے شکار پر قیمت واجب نہ ہوتی تو یہ حضرات اس کی قیمت کے تخمینے کیوں لگاتے۔ (مرقات ولمعات)
۲
؎تمام محدثین اس پرمتفق ہیں کہ یہ حدیث اسنادًا ضعیف ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2701