Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2699

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم: الحية والغراب الأبقع والفأرة والكلب العقور والحديا "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا پانچ جانورموذی ہیں حل و حرم میں قتل کیے جائیں ۱؎سانپ ،چتکبراکوا،چوہا،دیوانہ کتا اور چیل ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎موذیکے معنے ابھی عرض کیے جاچکے ہیں کہ اپنے فائدہ کے بغیر انسان کا نقصان کردینے والا جانور لہذا جوں کھٹمل وغیرہ اگرچہ تکلیف دہ ہیں مگر شرعی موذی نہیں کہ وہ اپنا پیٹ بھرنے کو ہمیں کاٹتے ہیں۔
۲
؎چتکبرا کوا جنگلی کوّے کو کہتے ہیں جس کی پیٹھ و پیٹ سفید باقی جسم سیاہ ہوتا ہے،چتکبرا کتا بھی ہوتا ہے آدمی بھی۔ چنانچہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک چتکبرے کتے کو دیکھتا ہوں کہ میرے اہل بیت کا خون کررہا ہے۔چنانچہ شمر مردود حضرت حسین علیہ السلام کا قاتل کوڑھی تھا،جسم پر سفید داغ والا۔(اشعہ)حق یہ ہے کہ پانچ میں حصر نہیں اور جانوربھی موذی ہیں جن کا قتل حرم و احرام میں درست ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2699