Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2703

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيِ عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلتُ جَابِرَ بنَ عَبْدِ اللّٰهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيُؤْكَلُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: سَمِعْتَهٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

وعن عبد الرحمن بن أبي عمار قال: سألت جابر بن عبد الله عن الضبع أصيد هي؟ فقال: نعم فقلت: أيؤكل؟ فقال: نعم فقلت: سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم. رواه الترمذي والنسائي والشافعي وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن ابی عمار سے فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللّٰه سے بِجّو کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ شکار ہے فرمایا ہاں ۱؎میں نے کہا کیا اسے کھایا جاسکتا ہے فرمایا ہاں میں نے کہا کہ یہ آپ نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے فرمایا ہاں ۲؎(ترمذی،نسائی،شافعی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کیا بِجّو خشکی کاشکار ہے جو محرم کو کرنا حرام ہے آ پ نے جواب دیا ہاں خشکی کا شکارہے لہذا اگر محرم اس کا شکار کرے گا تو قیمت واجب ہوگی۔
۲
؎یہ حدیث امام شافعی و امام احمد کی دلیل ہے،امام اعظم و مالک کے ہاں حرام،ان کی دلیل آگے آرہی ہے،نیز صحیح حدیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہر کیل والے جانور سے منع فرمایا اور بِجّو کیل دار جانور ہے لہذا حرام ہے اور یہ حدیث منسوخ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2703