Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2705

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزِيٍّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ. قَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ . وَسَأَلْتُهٗ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ. قَالَ: «أوَ يَأَكلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.

وعن خزيمة بن جزي قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل الضبع. قال: " أو يأكل الضبع أحد؟ . وسألته عن أكل الذئب. قال: «أو يأكل الذئب أحد فيه خير؟» . رواه الترمذي وقال: ليس إسناده بالقوي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن جزی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے بِجّو کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کوئی بِجّو بھی کھاتا ہے ۲؎اور آپ سے بھیڑیا کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ جس میں بھلائی ہو وہ بھیڑیا کھاسکتا ہے۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎خُزیمہخکے پیشزکے زبر (فتح)سے ہے اورجزیمہجیم کے زبرزکے زیر(کسرہ)سے،آپ صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی کیا کوئی مسلمان بِجّو کھائے گا حالانکہ یہ کیل والا جانور ہے اور کیل والے جانور حرام ہیں،یہ حدیث امام ابوحنیفہ و امام مالک رضی اللّٰہ عنہما کی دلیل ہے کہ بِجّو کھانا منع ہے،خواجہ حسن بصری،سعید ابن مسیب اور سفیان ثوری کا بھی یہ ہی مذہب ہے کہ بِجّو حرام ہے، دیکھو مرقات شرح مشکوٰۃ۔
۳
؎بھلائی سے مراد ایمان ہے یعنی مؤمن بِجّو بھیڑیا وغیرہ جانور کبھی نہیں کھاسکتا،مؤمن کو اس سے طبعًا نفرت ہونی چاہیے۔
۴
؎یعنی یہ حدیث (۱)امام ترمذی کو غیر قوی ہوکر ملی مگر جب امام اعظم نے اس حدیث سے یہ مسئلہ استنباط کیا تو اس وقت بالکل صحیح درست و قوی تھی،جس راوی کی وجہ سے یہ حدیث صحیح نہ رہی وہ اس کی اسناد میں اس وقت شامل تھا ہی نہیں،امام ترمذی کے زمانہ کے ضعف پہلے والوں کو مضر کیوں ہوگا(۲)اس حدیث سے خواجہ حسن بصری،سفیان ثوری نے بھی استدلال فرمایا(۳)اور اس کی تقویت ابن ماجہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے(۴)اور جب حلت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے لہذا یہ ہی راحج ہے کہ بِجّو حرام ہے۔(مرقات)
لطیفہ: مذہب حنفی کی قوت کی دلیل یہ ہے کہ جو جانور حنفی حرام کہتے ہیں دوسرے امام حلال،انہیں کھاتا کوئی نہیں۔دیکھو گھوڑا،گوہ،بِجّو وغیرہ کو دوسرے آئمہ نے حلال تو کہا مگر اس کے گوشت آج تک نہ کہیں مارکیٹ میں فروخت ہوتے دیکھے،نہ کسی کو کھاتے دیکھا،صرف کتابوں میں ہی حلت مذکور ہے(۵)خیال رہے کہ ترمذی نے بھی اس حدیث کو ضعیف نہ کہا بلکہ
لیس بقویفرمایا،اس میں حدیث حسن بھی شامل ہے،نیز(۶)ترمذی نے اس حدیث پر جرح مجہول کی اور جرح مجہول احناف کے ہاں نہیں،ان چھ وجہوں سے یہ حدیث قابلِ عمل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2705