Main Icon

باب :محرم شکار سے بچے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2698

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلٰى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خمس لا جناح على من قتلهن في الحرم والإحرام: الفأرة والغراب والحدأة والعقرب والكلب العقور "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا پانچ جانور وہ ہیں ۱؎جنہیں احرام میں قتل کرنے والے پر گناہ نہیں:چوہا،کوّا،چیل،بچھو اور دیوانہ کتا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پانچ جانورموذی ہیں یعنی اپنے نفع کے بغیر دوسرے کا نقصان کردینے والے،ان کا قتل ہر جگہ اور ہر حال میں درست ہے،موذی کی یہ تعریف خیال میں رہے۔
۲
؎یعنی یہ پانچ جانور چونکہ موذی ہیں کہ ابتداءً لوگوں کو ستاتے ہیں اور بغیر اپنے نفعے کے لوگوں کا نقصان کردیتے ہیں لہذا انہیں ہر جگہ حل و حرم اور ہر حالت حلال و حرام میں قتل کرسکتے ہو۔حداءۃٌبروزنعِنَبَۃٌاس کے معنے ہیں چیل،اسی سےحُدَیَّۃٌتصغیر بن جاتی ہے۔دیوانہ کتا فرمانے سے معلوم ہوا کہ شکاری یا آوارہ یا پالتو کتا مارنا درست نہیں کہ یہ موذی نہیں۔(مرقات)خیال رہے کہ ان پانچ کا ذکر حصر کے لیے نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ جانور کا ذکر ہے۔چنانچہ سانپ،درندہ شکاری موذی جانور جیسے شیر،بھیڑیا وغیرہ بھی حل و حرم میں،احرام و احلال میں قتل کیا جائے۔بعض علماء نے شیر وغیرہ میں حملہ کی قید لگائی کہ اگر یہ حملہ کریں تو دفاعی طور پر انہیں مارا جاسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2698