Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1159

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ صَلّٰى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهٗ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِب وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي اللهَ كُلَّ يَوْمٍ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ إِلَّا بَنَى اللهُ لَهٗ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ فِي الْجَنَّةِ»

عن أم حبيبة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة بني له بيت في الجنة: أربعا قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الفجر ". رواه الترمذي وفي رواية لمسلم أنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من عبد مسلم يصلي الله كل يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا غير فريضة إلا بنى الله له بيتا في الجنة أو إلا بني في الجنة»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھا کرے اس کے لیئے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۲؎چار ظہر سے پہلے دو ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعد دو رکعتیں فجر سے پہلے ۳؎(ترمذی)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں کہ الله کے لیئے ہر دن بارہ رکعتیں نفل پڑھ لیا کرے فرض کے علاوہ ۴؎مگر الله اس کے لیئے جنت میں گھر بنائے گا یا جنت میں گھر بنایا جائے گا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام رملہ بنت ابو سفیان ہے،کنیت ابو حبیبہ امیر معاویہ کی بہن ہیں،آپ کی والدہ صفیہ بنت عاص یعنی حضرت عثمان غنی کی پھوپھی ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا نکاح نجاشی شاہ حبشہ نے کیا،۴۴ھ∞ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی جنت کا اعلیٰ درجے کا محل اس کے لیئے نامزد کیا جائے گا کیونکہ وہاں مکانات تو پہلے ہی موجود ہیں یا ان سنن کی برکت سے اس کے لیئے نیا خصوصی گھر استعمال ہوگا کیونکہ جنت کا بعض سفیدہ بھی ہے جہاں اعمال کے مطابق محل تعمیر ہوتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
۳
؎یعنی بارہ سنتیں مؤکدہ ہیں جو حضور صلی الله علیہ وسلم ہمیشہ پڑھتے تھے ظہر کا ذکر اس لیئے پہلے کیا کہ حضرت جبریل نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو پہلی نماز یہ ہی پڑھائی اس لیئے اسے صلوۃ اولیٰ کہتے ہیں ان میں سنت فجر بہت تاکیدی ہیں حتی کہ بعض نے انہیں واجب کہا۔سعید ابن جبیر فرماتے ہیں کہ اگر میں سنت فجر چھوڑ دوں تو خطرہ ہے کہ رب مجھے نہ بخشے۔
۴
؎یعنی یہ رکعتیں اگرچہ مؤکدہ ہیں مگر فرض یا واجب نہیں،لہذا اس سے ان لوگوں کا رد ہوگیا جو سنت فجر کو واجب کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1159